صحت مند آنکھیں کیسے ممکن ہے

صحت مند آنکھیں کیسے ممکن ہے؟؟ کیا آپ صحت مند آنکھوں کا حصول چاہتے ہیں؟؟ 

                                     عینک سے آزاد آنکھوں کا خواب پورا کرنا چاہتے ہیں؟

                                               اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو 

مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کیجئے اور اپنی کھوئی ہوئی بینائی حاصل کیجیے اور جن کی آنکھیں صحت مند ہیں              وہ بھی عمل کریں تاکہ آگے جاکر آنکھوں کا کوئی مسئلہ نہ ہو۔


                                                                 **صحت مند آنکھیں کیسے ممکن ہے؟**


آنکھیں اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اس کی قدر کیجئے اس کی حفاظت کیجئے اس کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ انہیں ہمیشہ پرسکون رکھیں۔ غذا صحیح اور وقت پہ لینے سے آنکھوں کی بینائی بہتر ہوتی ہے۔ پانی کا استعمال بڑھا دیں۔ دن میں روزانہ 15 گلاس پانی لازمی پیئیں۔ یہ آنکھوں کو خشکی سے بچاتا ہے۔ ہر چھ ماہ بعد ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں۔ آنکھوں کے معاملے میں لاپرواہی سے گریز کریں                                             ۔ 
وٹامن اے کی مقدار اپنی خوراک میں بڑھادیں، وٹامن اے کی کمی سے آنکھیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ گاجر کے سیزن
میں گاجر کا جوس زیادہ سے زیادہ پئیں۔ گاجروں میں بیٹا کیروٹین زیادہ ہوتا ہے جو بہترین ویجن کےلئے بہت ضروری ہے۔ آئرن اور زنک کی مقدار خوراک میں زیادہ ہونی چاہیئے۔ چکن، بیف، اور مچھلی میں زنک موجود ہوتا ہے۔۔۔۔ کدو، انڈا، پپیتا، مٹر، آم، خوبانی میں آئرن اور وٹامن اے موجود ہوتا ہے۔ آلو کا استعمال کیجیے اس میں کیلشیم کی بہت زیادہ مقدار ہوتی ہے۔ ہری سبزیوں اور سلاد کا استعمال بھی لازمی کریں۔ ہری سبزیاں آنکھوں کے خلیات کو           نقصان سے بچاتی ہیں۔۔                                             

                       


                                         آنکھوں کی ورزش پر توجہ دیں۔

*فطری طریقہ سے آنکھوں کا علاج بہت کارگر ثابت ہوتا ہے۔ بیماری جس قدر پرانی ہوگی علاج بھی اتنا لمبا ہو جاتا ہے اسلئے بیماری کوئی بھی ہو طول نہ پکڑنے دیں۔ اسی طرح اگر آپ کی آنکھیں کافی ٹائم سے کمزور ہیں تو آنکھوں کے مسلز کو اصل حالت میں آنے میں وقت درکار ہوگا۔ تاہم اگر خوراک پر توجہ کرلی جائے اور آنکھوں کی مشقوں پر صبر اور دل جمعی سے عمل کیا جائے تو بہترین نتائج حاصل ہوں گے اور اگر آپ چشمہ لگاتے ہیں تو چشمہ سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔ 
بصری خرابیوں کی جڑ دراصل دماغ کی ہیجانی کیفیت ہوتی ہے اور یہ بوجھ آنکھ پر اثر انداز ہو کر اس کے مسلز

اور نروز کو خراب کر کے بصری کمزوری کی وجہ بن جاتا ہے۔ 
دماغ پر بوجھ، تفکرات، تناؤ، خیالات کی بوچھاڑ، ڈپریشن، کی وجہ سے بصری نقائص پیدا ہوتے ہیں۔ اپنے دماغ کو پرسکون رکھنے کے لئے مراقبہ کریں۔ مراقبہ سے دماغ سکون پالیتا ہے۔ مراقبہ کیا ہے کیسے کیا جاتا ہے یہ جاننے کے لئے ہمارے فیس بک پیج پر وزٹ کریں
Articlesbyshumaia
اپنے دماغ پر ضرورت سے زیادہ بوجھ مت ڈالیں۔ اپنے آپ کو سکون میں رکھیں۔ دماغ کو پرسکون رکھیں۔ 




اپنی خوراک پر آپ کو بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جسم میں بیماریوں کو دعوت نہ دیں۔ شوگر اور گردے کی بیماری آنکھوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر آپ کی آنکھوں کے سامنے نقطے ابھرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے جگر میں خرابی ہے جگر کا علاج کروائیں۔ جسم کے اندر کی ہر تکلیف آنکھوں پر اثر انداز ہوتی ہے جسم کے تمام عصبی نظام کا تعلق آنکھوں کے عصبی نظام سے جڑا ہوتا ہے۔ نشاستہ دار چیزوں اور لحمیات بیماریاں پیدا ہوتی ہیں لہذا ان سے اجتناب برتا جائے۔ یہ مضر صحت ہیں۔ متوازن غذاؤں کا استعمال کیجیے وہ غذائیں جو متوازن نہیں ہوتیں وہ پہلے جسم کے دوسرے حصوں میں گڑ بڑ پیدا کرتی ہیں پھر آنکھوں پر حملہ کر دیتی ہیں۔

 کافی عرصے تک خراب غذائیں کھانے سے بصری نقائص پیدا ہوجاتے ہیں اگر غذا درست کرلی جائے اور آنکھوں کی ورزشوں کو روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے تو بصری نقائص پر آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے۔ اور عینک سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارا حاصل ہوسکتا ہے۔ چکنائی والی چیزوں سے پرہیز کریں یہ خون کی شریانوں کو بند کر دیتی ہیں جس سے خون کی گردش متاثر ہوتی ہے جس کی وجہ سے آنکھوں کی حرکت میں تبدیلی آتی ہے جو آنکھوں کو نقصان     پہنچاتی ہے۔ 
اگر عصبی نظام خراب ہے خون کی گردش میں کمی ہے تو یہ فیکٹر بھی بصری نقائص کے ذمہ دار ہیں۔







اگر آنکھوں کو خون کی وافر مقدار نہ ملے تو ان میں خرابی پیدا ہونا لازمی امر ہے۔۔۔۔ ہر وہ چیز جو خون کی فراہمی میں رکاوٹ کا باعث ہو آنکھوں کے لئے مضر ہوسکتی ہے۔۔۔۔
گردن کے قریب ریڑھ کی ہڈی کے مسلز اگر سکڑ جائیں تو یہ خرابی پیدا کرتے ہیں اور ان کی وجہ سے آنکھوں کو خون کی وافر مقدار نہیں مل پاتی، آنکھوں کی چھوٹی چھوٹی شریانیں خون وصول نہیں کر پاتیں، اس سے دماغ کو بھی خون کی وصولی کم ہوتی ہے۔ ۔۔۔۔
آنکھوں کی بینائی کا حل چشمہ بلکل بھی نہیں ہے، اس سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو خوراک اور آنکھوں کی مشقوں پر توجہ دینی ہوگی انہیں پرسکون رکھنا ہوگا تبھی آپ عینک سے مکمل طور پر نجات پا سکتے ہیں۔ 
چشمے کا مسلسل استعمال بھی گردن کے مسلز پر اثر انداز ہوتا ہے۔ آنکھوں کی بیماریاں اسی وقت دور ہو سکتی ہیں جب ان سے جڑے مسلز کو آرام دہ حالت میں پہنچا دیا جائے۔ 
پہلے آپ جان لیں کہ آپ کی نظر کی کمزوری کی وجہ کیا ہے؟؟؟  پھر اس کے مطابق آنکھوں کا علاج کریں تو یقیناً آپ کو فائدہ حاصل ہوگا۔۔



                                                     **آنکھوں کی مشقیں**


آنکھوں کی مشقوں پر خاص توجہ دیں۔ ذیل میں ہم آپ کو آنکھوں کی چند مشقیں بتارہے ہیں آپ ہر مشق پر دن میں تین مرتبہ عمل کریں اور ہر مرتبہ ایک مشق کو 20 منٹ کا وقت دیں اور ساری مشقیں کرنی ہیں۔ ان سے بصری نقائص کو دور کرنے میں کافی مدد ملے گی۔ اور آپ چند ماہ میں عینک سے نجات حاصل کر لیں گے۔

مشق نمبر 1۔ 

اپنی آنکھوں کو سکون دیں۔ سکون بخشتی کا طریقہ یہ ہے کہ۔۔۔۔ 
آرام دہ حالت میں بیٹھ جائیں، اپنی دونوں ہتھیلیوں سے اپنی آنکھوں کو ڈھانپ لیں دباؤ نہ ڈالیں آنکھیں بند ہوں اور اندھیرے کو محسوس کریں۔ 20 منٹ تک عمل جاری رکھیں پھر ہاتھوں کو ہٹا کرنے آرام سے آنکھیں کھولیں۔

مشق نمبر 2 ۔

آنکھوں کو آرام آرام سے 💯 مرتبہ جھپکائیں۔ جو آنکھیں نارمل ہوتی ہیں وہ اپکو پلکیں جھپکاتی ملیں گی۔ پلکیں جھپکا نے سے آنکھوں کو نمی ملتی ہے۔ آنکھوں کی خشکی ختم ہوتی ہے اور آنکھوں کی چمک دمک میں اضافہ ہوتا ہے۔ دس سیکنڈ میں 5 بار لازمی آنکھوں کو جھپکائیں۔ 

مشق نمبر 3 ۔

ایک برتن میں ٹھنڈا پانی لیں اپنے چہرے کو اس برتن کے قریب لیجائیں ہاتھوں میں پانی لیکر آنکھوں پر ڈالیں چار پانچ مرتبہ ایک ساتھ ڈالیں پھر پانی ہتھیلیوں میں بھر کر پھر ڈالیں اس کے بعد تولیے سے ہلکے ہاتھوں سے آنکھوں کو دبائیں اسطرح کرنے سے آنکھیں فریش ہو جائیں گی اور انہیں سکون ملیگا۔





مشق نمبر 4 ۔ 

اپنے سر کو دائیں بائیں، اوپر نیچے حرکت دیں اس مشق سے گردن کے سکڑے ہوئے عضلات کو سکون ملتا ہے جس سے آنکھوں کی بصارت پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

مشق نمبر 5 ۔ 

اپنی شہادت کی انگلی کو ناک کی سیدھ میں رکھتے ہوئے قریب لائیں پھر دور لیجائیں۔ اسی طرح دائیں جانب لیکر جائیں پھر بائیں جانب لیجائیں۔ آپ کی نظر انگلی کی ٹپ پر ہونی چاہیئے اور اس مشق کے دوران گردن بلکل نہیں گھمانی بلکہ آئی بال کو گھمانا ہے۔ آپ یہ مشق پینسل کی مدد سے بھی کر سکتے ہیں اس صورت میں آپ کو نظر پینسل کی نوک پر جمانی ہے۔ یہ ایک زبردست مشق ہے۔

مشق نمبر 6 ۔ 

 ایک بڑا سا دائرہ اسطرح بنائیں کہ ہر پانچ سینٹی میٹر پر ایک بڑا سا نقطہ بناکر دائرہ مکمل کریں تقریباً 100 نقطے بنائیں بلیک مارکر سے نقطے بنائیں اور اتنے بڑے ہوں کہ آپ پانچ سینٹی میٹر کے فاصلے سے آسانی سے دیکھ سکیں۔ کسی شیٹ پر یہ سرکل بناکر ایسی جگہ پیسٹ کردیں جہاں آسانی سے یہ مشق ہو سکے۔ بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر جیسے سہولت ہو ان نقطوں کو دیکھتے ہوئے کلاک وائز چکر مکمل کریں ہر نقطے پر ایک سیکنڈ رکیں پانچ چکر مکمل کر کے پھر الٹے چکر یعنی اینٹی کلاک وائز عمل کو دہراتے ہوئے پانچ چکر مکمل کریں۔ 20 منٹ اس مشق کو سر انجام دیں۔ 

یہ تمام مشقیں نہایت کارگر ثابت ہوتی ہیں اگر آپ کو کوئی بصری نقص نہیں بھی ہے تو آپ ان مشقوں کو سر انجام دیں تو عینک سے ہمیشہ دور رہیں گے۔۔۔
 *.مشق کے دوران عینک ہر گز نہ لگائیں۔
*. مشق کے دوران اپنے ذہن کو ہر فکر سے آزاد کرکے مشق پہ دھیان دیں۔
*. مشق کا مقصد دماغ کے خلیات کو سکون دینا ہے۔ اور دماغ کو ذہنی ہیجان اور  تفکرات سے آزاد کرنا ہے۔



                                       ***********************************


                                         
                                   ** عرق گلاب ** 


عرق گلاب آنکھوں کو قدرتی طریقے سے صاف کرتا ہے۔ یہ آنکھوں کے لئے بہترین ٹانک ہے۔ خالص عرق گلاب کے اپنے ہی فوائد ہیں۔ اگر آنکھوں میں جلن محسوس ہوتی ہو، پانی آتا ہو، آنکھوں میں پیلاہٹ ہو، تو روزانہ دو دو قطرے آنکھوں میں ڈالیں۔ دن میں وقفے وقفے سے قطرے ڈالتے رہیں بہت فرق محسوس ہوگا۔ 
وہ لوگ جن کی آنکھوں میں خون پھیل جاتا ہو وہ لوگ ہر دو گھنٹے بعد دو دو قطرے عرق گلاب کے آنکھوں میں ڈالیں اس سے جلن خارش سب ختم ہو جائے گا۔ 
آنکھوں کی صفائی اور تھکن اتارنے کے لئے روئی کو عرق گلاب میں بھگو کر آنکھوں پر رکھنے سے آنکھوں کو بہت سکون ملتا ہے۔ جو لوگ عرق گلاب کا استعمال مسلسل کرتے ہیں وہ آنکھیں صاف و شفاف اور اجلی ہوتی ہیں اور انہیں آنکھوں کے مسائل کا سامنا کم کرنا پڑتا ہے۔

* شہد اور عرق گلاب*

ایک چمچ شہد میں دو چمچ عرق گلاب مکس کر کے کسی ڈراپر میں ڈال لیں اور وقفے وقفے سے ڈراپس آنکھوں میں ڈالتے رہیں بصارت بہتری کی جانب گامزن ہو نا شروع ہو گی۔ آنکھوں کے خلیات کو سکون ملیگا۔ دونوں ہی چیزیں آنکھوں کی صفائی میں بے مثال ہیں۔ اور بینائی میں اضافے کا سبب ہیں۔
شہد آنکھوں کی صحت کے لئے بہت ضروری ہے۔ شہد toxic materials کو باہر نکالتا ہے انفیکشن کو دور کرتا ہے۔ جبکہ روز واٹر آنکھوں سے مٹی دھول، گردو غبار کو صاف کر کے انہیں صحت مند بناتاہے۔ 

* کھیرا * 

کھیرا میں کولنگ خصوصیات پائی جاتی ہیں اس لئے یہ آنکھوں کی جلن کو دور کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے یہ گرمی کو دور کرتا ہے۔ آنکھوں کی صفائی کرتا ہے، کھیرے کا رس لگاتار استعمال کرنے سے آنکھوں کی کمزوری دور ہوتی ہے۔ کھیرے کے قتلے کاٹ کر آنکھوں پر 5 منٹ رکھیں یہ آنکھوں سے ساری گرمی کھینچ لیگا۔ 
کھیرے میں منرلز اور پانی کی بہت زیادہ مقدار پائی جاتی ہے اس لئے کھیرا کا استعمال بہت زیادہ کریں  اس سے بصارت میں بہتری آئیگی۔

                                        * Acupressure *

تھوڑا سا دیسی گھی لیکر آئی بروز کے بیچ میں لگائیں اور ہلکا سا پریشر دیں  5 منٹ دائرہ بناتے ہوئے انگلی کو گھمائیں۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح رات کو سوتے وقت دونوں انگوٹھوں پر گھی لگائیں اور ایک دوسرے پر  5 منٹ مساج کریں ان دونوں طریقوں سے آنکھوں پر بہت اچھا اثر پڑتا ہے۔ 
اخروٹ کے تیل کی مالش آنکھوں کے آس پاس کرنے سے آنکھوں کے خلیات کو سکون ملتا ہے۔

*ناف میں تیل*

آنکھوں کی جلن، خشکی، کھجلی، آنکھوں کا لال ہونا، آنکھوں کے نیچے کالے دھبے دور کرنے کے لئے روزانہ سوتے وقت ناف میں سرسوں کا تیل ڈالیں اس عمل سے آنکھوں کی روشنی بھی بڑھتی ہے اور آنکھوں کے تمام مسائل بھی حل ہوتے ہیں۔
ناف میں تیل ڈالنے سے نیند بھی پرسکون آتی ہے۔ 

** بصارت بہتر بنانے کے لاجواب نسخے**

نسخہ نمبر 1۔۔۔

کالی مرچ، مصری، دیسی گھی سب کو مکس کر کے مکسچر بنا کر محفوظ کر لیں روزانہ رات کو سونے سے پہلے ایک چمچ کھانے سے آنکھوں کی بینائی میں اضافہ ہوتا ہے۔

نسخہ نمبر 2۔۔۔

بادام ایک مٹھی، کشمش ایک مٹھی، چار مغز ایک مٹھی، سونف ایک کھانے کا چمچ، مصری ایک چمچ۔۔۔۔۔۔۔ ان سب کو بلینڈ کرلیں۔ روزانہ رات کو نیم گرم دودھ میں ملا کے پی لیں ایک ماہ کے متواتر استعمال سے آپ کو فرق نظر آجائے گا۔

نسخہ نمبر 3۔۔۔

گاجر کے سیزن میں گاجر کا جوس روزانہ 3 گلاس لازمی پئیں۔ گاجر میں بہت بھاری مقدار میں وٹامن اے اور بیٹا کیروٹین ہوتا ہے جو آنکھوں کی صحت کے لئے ازحد ضروری ہے۔

نسخہ نمبر 4۔۔۔

آملہ کا استعمال کریں اس سے آنکھوں سے کمزوری دور ہوتی ہے ، گرین آملہ لیکر لیمن میں جوس بنا کر پئیں۔ آملہ کا تیل سر میں لگائیں۔ روزانہ ایک سے دو عدد آملہ لازمی کھائیں۔ آملہ بصارت تیز کرنے میں مدد کرتا ہے۔ گرین آملہ کا استعمال کریں۔ آملہ کا مربہ بناکر روزانہ ایک چمچ کھائیں۔ آملہ آنکھوں کے لئے ایک مکمل غذا ہے۔ 

نسخہ نمبر 5۔۔۔

6 عدد بادام ، 4 عدد کالی مرچ پیس کر ایک چمچ شہد میں ملا لیں اور اس کو نہار منہ کھائیں اور اس نسخے پر ایک ماہ عمل کریں آپ کی آنکھوں سے عینک اتر جائے گی۔ یہ ایک دن کی مقدار ہے۔

نسخہ نمبر 6۔۔۔

دیسی گھی اور دودھ کے استعمال سے بصری نقائص کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ایک کپ دودھ میں ایک چمچ دیسی گھی ڈال کر اچھی طرح ہلائیں اور سونے سے پہلے پی لیں۔ وہ لوگ جو کمپیوٹر پر زیادہ وقت گزارتے ہیں ان کے لئے یہ ایک نایاب نسخہ ہے ضرور آزمائیں۔ بہت زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ آنکھوں کی بہترین بصارت کے لئے انتہائی مفید ہے۔

نسخہ نمبر 7 ۔۔۔

200 گرام بادام، 100 گرام مصری، 100 گرام سونف، 25 گرام کالی مرچ ۔۔۔۔۔ ان سب کو بلینڈ کر کے سفوف بنالیں۔ بوتل میں محفوظ کر لیں۔ دودھ گرم کرنے کے بعد ایک چمچ ڈال کر 5 منٹ کے لئے ہلکی آنچ پر مزید دودھ گرم کریں اور نیم گرم دودھ رات کو سوتے وقت پی لیں۔ اگر آپ 6 ماہ لگا تار عمل کرتے ہیں تو کسی بھی نمبر کی عینک ہو اتر جائے گی۔ 


نسخہ نمبر 8 ۔۔۔

نظر کی حفاظت کے لئے بصارت کو بہتر بنانے کیلئے دو انڈے لازمی کھائیں۔

نسخہ نمبر 9 ۔۔۔

دوچمچ سونف پاؤڈر، دو چمچ دھنیا پاؤڈر، ایک چمچ براؤن شوگر۔۔۔۔۔ سارے اجزاء مکس کریں صبح شام ایک ایک چمچ کھالیں۔

نسخہ نمبر 10۔۔۔

پالک کا جوس بنائیں اگر آپ زیادہ ایک ساتھ نہیں پی سکتے تو دن میں تقریباً 4 چمچ کے قریب پی لیں۔ پالک میں بیٹا کیروٹین کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے بصارت میں حیرت انگیز طور پر اضافہ ہوتا ہے۔ ٹوٹے ہوئے خلیات دوبارہ بنتے ہیں۔ اور آنکھوں کے خلیات میں خون اچھی طرح گردش کرتا ہے۔












** روحانی علاج**

1۔۔۔ روزانہ رات کو سوتے وقت 11 مرتبہ یا باعث یا نور سینے پر ہاتھ رکھ کر پڑھنے سے بصارت میں اضافہ ہوتا ہے۔
2۔۔۔ گیارہ مرتبہ یا حفیظ یا سلام صبح شام پڑھنے سے آنکھوں کی حفاظت میں مدد ملتی ہے۔ اس عمل سے ہر طرح کی حفاظت ہوجاتی ہے۔
3 ۔۔۔ بعد نماز عصر 100 مرتبہ یا نور پڑھنے سے آنکھوں کے نور میں اضافہ ہوتا ہے۔
4 ۔۔۔ رات کو سنت کے مطابق سرمہ لگانے والوں کی بینائی کبھی متاثر نہیں ہوتی ۔ تین تین سلائیاں دونوں آنکھوں میں لگائیں اور آنکھیں بند کر کے سو جائیں۔ سرمہ اسی وقت لگائیں جب آپ مکمل سونے کے لئے لیٹ جائیں کیونکہ سرمہ بند آنکھوں میں کام کرتا ہے۔
5 ۔۔۔ قرآن کریم کی آیت ہے
فکشفنا عنک غضاءک  فبصرک یوم الحدید۔ 
ترجمہ۔۔۔ آج ہم نے تمہاری نگاہ سے پردہ اٹھا دیا ہے تو تم دیکھ سکتے ہو۔ 
قرآن کریم کی یہ آیت آنکھوں کے لئے ایک معجزہ ہے۔ اگر آپ اس آیت کو سینکڑوں اور ہزاروں میں پڑھیں گے تو یقین جانیں آپ کو بہترین رزلٹ ملیگا۔ حیرت انگیز طور پر آنکھوں کے ہر مسئلے سے نجات حاصل ہو جائے گی۔












**بصارت میں کمزوری کی وجوہات**

دماغی بوجھ، تفکرات، ذہنی ہیجان بصارت میں کمزوری کی وجہ بنتے ہیں۔جب آنکھوں کے خلیات پر دباؤ پڑتا ہے تو بصری نقائص پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ان دباؤ کا سدباب کیا جائے تو بصارت کی کمزوری پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ بیماری جس قدر پرانی ہوگی علاج کا وقفہ اسی قدر لمبا ہوسکتا ہے کیونکہ مسلز اور اعصاب کو اصل حالت میں آنے میں کچھ وقت لگے گا تا ہم صبر اور دلجمعی سے اگر مشقوں اور نسخوں پر عمل جاری رکھا جائے تو عمدہ نتائج حاصل ہوں گے۔
اپنے دماغ کو مکمل سکون اور آرام دیں یہ آنکھوں کے لئے بہت ضروری ہے۔ دماغ پرسکون ہوگا تو آنکھوں کے اعصاب بھی پرسکون رہیں گے جس سے بصارت کو نقصان نہیں ہوگا۔ سکون اور آرام کے بغیر بصری خامیاں درست نہیں ہوسکتیں۔ دماغ پر زیادہ بوجھ، زیادہ کام کرنے، گھبرانے، سوچتے رہنے سے آنکھوں پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے اس لیے ان چیزوں سے دور رہیں۔ 
*۔ شوگر اور گردے کی بیماری آنکھوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔
*۔ آنکھوں کے سامنے نقطوں کے ابھرنے کا مرض جگر کی خرابی سے پیدا ہوتا ہے۔
*۔ ریڑھ کی ہڈی میں درد آنکھوں کی بصارت پر اثرانداز ہوتا ہے۔
جسم کے اندر کی ہر تکلیف آنکھوں پر اپنا اثر چھوڑتی ہے۔ جسم کے تمام عصبی نظام کا تعلق آنکھوں کے عصبی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ نشاستہ دار چیزیں اور لحمیات کی کثرت ان تکالیف کا باعث بنتی ہے لہذا ان سے مکمل پرہیز کریں۔ متوازن غذا نہ لینے سے  جسم  میں بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور پھر یہ آنکھوں پر حملہ آور ہوتی ہیں۔ ان کی وجہ سے شریانوں میں خون کی روانی سست پڑ جاتی ہے جس کی وجہ سے آنکھوں کو حرکت کرنے میں دقت ہوتی ہے جس سے بصری کمزوری کا آغاز ہوتا ہے۔ جب مسلسل نشاستہ دار غذاؤں کا استعمال کیا جاتا ہے تو بصری کمزوری پیدا ہوتی ہے اگر غذا درست کرلی جائے۔ مشقیں شروع کردی جائیں، نسخوں پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے تو بصری خرابی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ خون کی روانی آنکھوں کو صحت مند رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔
 معلوم یہ ہوا کہ۔۔۔
* دماغی تھکاوٹ اور غیر متوازن خوراک سے بصری خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔
* عصبی نظام کی خرابی، خون کی نادرستگی آنکھوں کو کمزور بناتی ہے۔
* اگر آنکھوں کو خون کی وافر مقدار نہ ملے تو ان میں خرابی پیدا ہونا لازمی امر ہے۔
* گردن کے قریب ریڑھ کی ہڈی کے مسلز سکڑ جائیں تو بصری خرابی پیدا ہوتی ہے۔
* ریڑھ کی ہڈی میں کوئی خرابی پیدا نہ ہونے دی جائے تاکہ بصری نظام بہتر رہے۔ 
* عینک کا مسلسل استعمال بھی گردن کے مسلز پر اثرانداز ہوتا ہے وہ سکڑتے ہیں جس کی وجہ سے خون کی گردش میں کمی آتی ہے اور یہ بصری نقص کی وجہ بنتا ہے۔ ان مسلز کا آرام دہ حالت میں رہنا بہت ضروری ہے۔
* بصری نقائص کو دور کرنے میں کامیابی تبھی ملے گی جب آپ یہ جان پائیں کہ آپ کی آنکھوں کی کمزوری کی اصل وجہ کیا ہے۔ اس وجہ کا علاج کیا جائے تبھی آپ آنکھوں کے امراض سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اپنی آنکھوں کو پلکیں جھپکانے کا عادی بنائیں یہ بہت ضروری ہے صحت مند آنکھیں پلکیں جھپکاتی ملیں گی۔ آنکھوں کی مسلسل حرکت بصارت کے لئے بیحد ضروری ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ان پر دباؤ یا بوجھ نہ ہو۔

**غذا کون سی کھائیں**

غذائیں انسانی صحت پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔ فطری غذاؤں کا استعمال کریں۔ فاسٹ فوڈ سے پرہیز کریں۔ ہری سبزیوں کا استعمال کیجیے۔ حدیث میں آتا ہے کہ
" اپنے دسترخوان کو ہری سبزیوں کی زینت بناؤ" ہری سبزیاں صحت پر بہت اچھا اثر چھوڑتی ہیں۔ قدرتی طریقہ علاج کے ذریعے معالجین نے کئی امراض کا عمدگی سے علاج کیا ہے جن میں گھٹیا، گردے کی بیماری، دل کی بیمث، ذیابیطس ۔۔۔۔ غذا درست کر کے ان بیماریوں کو دور کیا گیا ہے۔ قدرتی طریقہ علاج میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ جسم کو کن چیزوں کی ضرورت ہے اور وہ کن غذاوں سے مل سکتی ہے۔ جب غذا کو متوازن کردیا جاتا ہے تو دھوپ، حمام، غسل، پانی وغیرہ کے تعاون سے امراض دور کر دیئے جاتے ہیں۔
وہ لوگ جو بصری نقائص کے شکار ہیں مندرجہ ذیل نقطے ان کی توجہ چاہتے ہیں۔
* فطری خوراک اور وہ غذائیں جو پکائی نہیں جاتیں کھانے کے لئے بہترین ہیں ان غذاؤں میں مندرجہ ذیل اشیاء شامل ہیں۔

1۔ تازہ پھل

2۔ سبزیوں میں۔۔۔۔ شلجم، چقندر، کھیرا، ٹماٹر، مولی، گاجر، پیاز ، گوبھی، پالک
3۔ گری دار میوے۔۔۔۔ مونگ پھلی، بادام، پستے، اخروٹ، کھجوریں، ناریل، کشمش
4۔ دودھ سے بنی اشیاء۔۔۔۔ دودھ، دہی، کریم، مکھن
5۔ انڈے، شہد، کلونجی، ہلدی، مچھلی
یہ تمام تر غذائیں توانائی سے بھرپور ہوتی ہیں۔ انہیں تازہ ہی کھانا بہتر ہے۔ 
*ناشتے میں تازہ پھل کھائیں۔ تازہ دودھ ناشتے میں بہترین ہے۔ دودھ اور پھل سے ناشتہ کریں۔
* دوپہر اور شام میں سلاد والی غذاؤں کا استعمال کریں اور لیمن جوس پی لیں۔
* شام میں گوشت، انڈے اور مچھلی بھی کھا سکتے ہیں ابلے ہوئے آلو بھی بہت مفید ہوتے ہیں۔

*احتیاطی اقدامات*

کافی چائے کا استعمال نہ کریں، ڈبوں میں بند غذاؤں سے پرہیز کریں، فریج میں رکھی چیزوں سے پرہیز کریں۔ پھل اور سبزیاں ہمیشہ تازہ ہی استعمال کریں باسی سبزیاں اپنی غذائیت کھو دیتی ہیں۔ 
چینی اور نشاستہ دار چیزوں کا استعمال بلکل ترک کردیں۔
وٹامن اے کا استعمال اپنی خوراک میں بڑھا دیں یہ کلیجی، گاجر، گوبھی، مکھن، انڈہ، تازہ دودھ، نارنگی، کھجور، ٹماٹر اور گھی میں موجود ہوتا ہے۔ 
غذا کے اس چارٹ پر عمل کرنے سے بصارت کو بہت زیادہ فائدہ حاصل ہوگا، خصوصاََ جب آپ نے دوسرے طریقے بھی اپنائے ہوئے ہوں۔

**ایسی 10 غذائیں جو آنکھوں کو مضبوطی فراہم کرتی ہیں**

1
. پالک۔۔۔۔ میں لیوٹین کی مقدار بہت زیادہ پائی جاتی ہے جو آنکھوں کے خلیات کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے

2. 
انڈے۔۔۔۔ میں بھاری مقدار میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ، لیوٹین ، وٹامن ڈی ، پروٹین اور zeaxanthin پایا جاتا ہ جو صحت مند آنکھوں کےلئے انتہائی ضروری ہے۔

۔3 اخروٹ، مچھلی بادام۔۔۔۔۔ میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ، وٹامن اے اور ای پایا جاتا ہے جو آنکھوں کے بہترین ویجن کے لئے بہت ضروری ہے یہ رات کے اندھے پن سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں۔ اخروٹ کی چکناہٹ سے آنکھیں inflammatory attack سے محفوظ رہتی ہیں۔ اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈ آنکھوں کو مضبوطی فراہم کرتا ہے۔

۔۔4 انگور۔۔۔۔ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے جس کی وجہ سے ریٹینا صحیح کام کرتا ہے۔

5
. سنگترہ ، اسٹرابری، لیموں۔۔۔۔ میں وٹامن سی اور کیلشیم موجود ہوتا ہے جو خون کی گردش میں معاون ہوتا ہے جن لوگوں کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہو وہ کثرت سے ان کا استعمال کریں۔ یہ خون کو پتلا کر کے آنکھوں کے خلیات کو پہنچا تا ہے۔ جس سے نظر کی کمزوری دور ہوتی ہے۔

6
۔ آلو، کدو۔۔۔۔ میں کیلشیم اور وٹامن اے پایا جاتا ہے
۔

7
۔ شملہ مرچ، گاجر۔۔۔۔ میں وٹامن اے موجود ہوتا ہے جو بصارت کو بہتر بناتا ہے۔ 

8
۔ گرین ٹی۔۔۔۔  antioxidant ہوتی ہے نئے سیل بنانے میں مدد گار ہوتی ہے۔ خشک آنکھوں کے لئے بہترین ہے۔

9
۔ لہسن، ادرک۔۔۔۔ ان میں سلفر کی بھاری مقدار موجود ہوتی ہے۔روزانہ دو سے تین جوے لہسن کھانے سے کمزوری کا خاتمہ ہوتا ہے۔ یہ antioxidant  ہوتا ہے cataract and glaucoma کے علاج میں بہترین کارکردگی دکھاتا ہے۔ 

10. کلونجی،شہد، ھلدی۔۔۔۔ آنکھوں کی بینائی کے لئے بہترین ٹانک ہیں۔ ہلدی  antioxidant ہوتا ہے یہ آنکھوں کے جراثیم کو مارتا ہے۔ کلونجی میں پروٹین، آئرن، کیلشیم،اور سلفر میگنیشیم پایا جاتا ہے جو آنکھوں کی کارکردگی کو شہد آنکھوں کے لئے برسوں کا آزمودہ نسخہ ہے۔


******************************************************


Ten best tips for achieving anything you want in life.

10 best tips for achieving anything you want in life.

1. Focus on commitment, not motivation.
Just how committed are you to your goal?
 How important is it for you, and what are you willing to sacrifice in order to achieve it?
If you find yourself fully committed, motivation will follow.


2. Seek knowledge, not results.
If you focus on the excitement of discovery, improving, exploring and experimenting, your motivation will always be fueled.
 If you focus only on results, your motivation will be like weather—it will die the minute you hit a storm.
So the key is to focus on the journey, not the destination.
Keep thinking about what you are learning along the way and what you can improve.



3. Make the journey fun.
It’s an awesome game!
The minute you make it serious, there’s a big chance it will start carrying a heavy emotional weight  and you will lose perspective and become stuck again.



4. Get rid of stagnating thoughts.
Thoughts influence feelings and feelings determine how you view your work.
 You have a lot of thoughts in your head, and you always have a choice of which ones to focus on: the ones that will make you emotionally stuck (fears, doubts) or the ones that will move you forward (excitement, experimenting, trying new things, stepping out of your comfort zone).



5. Use your imagination.
Next step after getting rid of negative thoughts is to use your imagination. When things go well, you are full of positive energy, and when you are experiencing difficulties, you need to be even more energetic.
 So rename your situation.
If you keep repeating I hate my work, guess which feelings those words will evoke?
It’s a matter of imagination!
 You can always find something to learn even from the worst boss in the world at the most boring job.
I have a great exercise for you:
Just for three days, think and say positive things only.....
 See what happens.....!!

 

6. Stop being nice to yourself.
Motivation means action and action brings results.
 Sometimes your actions fail to bring the results you want.
 So you prefer to be nice to yourself and not put yourself in a difficult situation.
You wait for the perfect timing, for an opportunity, while you drive yourself into stagnation and sometimes even into depression.
Get out there, challenge yourself, do something that you want to do even if you are afraid.

7. Get rid of distractions.
Meaningless things and distractions will always be in your way, especially those easy, usual things you would rather do instead of focusing on new challenging and meaningful projects. Learn to focus on what is the most important.
Write a list of time-wasters and hold yourself accountable to not do them.



8. Don’t rely on others.
You should never expect others to do it for you, not even your partner, friend or boss.
They are all busy with their own needs. No one will make you happy or achieve your goals for you.
 It’s all on you.

 

9. Plan.
Know your three steps forward.
You do not need more.
 Fill out your weekly calendar, noting when you will do what and how.
When-what-how is important to schedule.
 Review how each day went by what you learned and revise what you could improve.  

10. Protect yourself from burnout.
It’s easy to burn out when you are very motivated.
 Observe yourself to recognize any signs of tiredness and take time to rest.
Your body and mind rest when you schedule relaxation and fun time into your weekly calendar.
Do diverse tasks, keep switching between something creative and logical, something physical and still, working alone and with a team.
Switch locations.
Meditate, or just take deep breaths, close your eyes, or focus on one thing for five minutes.

حیات اولیاء



ولایت نام ہے عطائے اتباع نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا۔۔ 

فرمانِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔۔۔۔۔
" بیشک اللہ کے ولیوں پر موت نہیں آتی، بلکہ وہ ایک (دنیاوی) گھر 🏠 سے دوسرے گھر ( برزخی) کی طرف منتقل ہو تے ہیں۔" 

فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔۔۔۔

" جب تم اپنے معاملات میں حیرت کا شکار ہو جایا کرو تو اہل قبور سے مدد مانگ لیا کرو۔"
 اس طرح تمہاری مشکل آسان ہو جایا کریگی، اور تم کسی بھی مہم میں عاجز نہ ہوا کرو گے۔

شمس العارفین حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ فرماتے ہیں۔۔۔۔

" ایک رات کسی ولی اللہ کے مزار کی ہم نشینی میں قرآن خوانی کرنا زہد و ریاضت کے چالیس چلوں سے بہتر ہے۔"

کلید التوحید میں مزید فرماتے ہیں۔۔۔۔

" اگر دائمی حضوری چاہتے ہو تو کسی ذندہ دل اہل قبر کی ہم نشینی اختیار کر لو۔" 

اہل اللہ کی قبر سے ہر مشکل حل ہو جاتی ہے کیونکہ اہل اللہ کی قبر سے زیر و زبر کی ہر حقیقت کھلتی ہے۔
اولیاء اللہ کے مکھڑے کی زیارت کرنے سے دل میں محبت الٰہی کا چراغ جلتا ہے۔ ظاہر باطن نکھرتے ہیں۔ شریعت مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کرنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔


** اللہ کے ولیوں کا مقام **

اللہ کے ولیوں کا ایک خاص مقام ہوتا ہے۔ صوفیائے کرام اور اولیائے کرام کسی عالم کی طرح اسٹیج اور منبر کے ذریعے تبلیغ دین کا فریضہ سر انجام نہیں دیتے، بلکہ اپنے مسکن، آستانے کی طرف لوگوں کو اپنی کرامات سے کھینچتے ہیں۔
ان کے حضور شاہ و گدا، امیر و فقیر، ادنی و اعلیٰ، مرد اور خواتین، پیر و جوان، خادم و مخدوم، محمود و ایاز، آقا و غلام سبھی سائل بن کر عاجزی اور انکساری کا پیکر بنے حاضری دیتے نظر آتے ہیں اپنی مرادوں سے جھولیاں بھرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اللہ کے ولی فیض کا ایسا چشمہ جاری کرتے ہیں کہ کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ 

عارفین کی دنیا بہت نرالی ہوتی ہے۔ یہ وہی اولو العزم ہستیاں ہیں جو دنیا میں رک کر بھی دنیا کے بندے نہیں ہوتے، رہتے کٹیا میں ہیں اور خبر لامکاں کی رکھتے ہیں۔

حضرت ابرہیم بن ادھم سے کسی نے پوچھا کہ۔۔۔۔۔
شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ  جاہ و جلال چھوڑ کر آپ کو کیا ملا۔۔۔۔؟؟ 
یہ دریا پر بیٹھ کر سوئی سے اپنے کپڑوں کی مرمت کر رہے ہیں پیوند لگا رہے ہیں۔ حکمرانی چھوڑ کر کیا ملا؟؟؟؟؟
کہا نادان حکمرانی تو اب بھی ہے اور پہلے سے زیادہ اچھی ہے۔ 
پوچھنے والے نے حیرانی سے سوال کیا وہ کیسے؟؟ 
جس سوئی سے آپ پیوند لگا رہے تھے اسے دریا میں پھینک دی۔۔۔اور پھر فرمایا۔۔
اے دریا کی مچھلیوں! 
میں غلام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں۔۔۔ ذرا میری سوئی تو لادو۔۔ اتنا کہنا تھا کہ کہ دریا سے 🎏 مچھلیاں امڈ امڈ کر آنے لگیں کوئی سونے کی،تو کوئی چاندی کی سوئی لیکر حاضر ہوئی۔ آپ نے فرمایا نہیں یہ میری سوئی نہیں ہے اتنے میں ایک مچھلی آپ کی سوئی لیکر حاضر ہوئی آپ نے فرمایا۔۔۔۔ 
ہاں۔۔۔!! یہ میری سوئی ہے۔ آپ نے وہ سوئی لے لی اور باقی مچھلیوں کو واپس جانے کا حکم دیا۔
پھر سوال کرنے والے سے پوچھا اب بتا حکمرانی یہ تھی یا وہ تھی۔ 
اسی لئے کہا جاتا ہے۔۔۔

نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ انکو۔۔۔۔
ید بیضا لئے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں


اللہ کے ولیوں کو کوئی خوف اور غم نہیں ہوتا اور وہ اللہ کے دوست ہوتے ہیں۔

" اور جو لوگ صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور اس کی خوشنودی کے طالب ہیں ان کیساتھ صبر کرتے رہو، اور تمہاری نگاہیں ان میں نہ دوڑیں کہ تم آرائش زندگانی دنیا کے خواستگار ہوجاؤ اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا۔"

جاری ہے

Images








اللہ تبارک و تعالیٰ کو وہ لوگ بہت پسند ہیں جو اس کی بارگاہ میں توبہ واستغفار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کثرت سے استغفار کرنے والوں کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ کیونکہ جب بندہ ہر وقت اللہ کی بارگاہ میں معافی کا طلبگار ہوتا ہے اپنے گناہوں پر نادم اور شرمندہ ہوتا ہے تو اللہ کی رحمت جوش میں آ تی ہے اور وہ بندوں کو اپنی حضوری سے نوازتا ہے۔  اللہ کو پاک صاف رہنے والے اور توبہ کرنے والے لوگ بہت پسند ہیں۔



اور صبح شام اپنے رب کی پاکی بیان کرتے رہو، اس کی حمد و ثناء کرو۔ بیشک تیرے رب کا نام بڑی عظمت و برکت والا ہے۔ اپنی دھڑکنوں کو اللہ کے ذکر کا عادی بناؤ۔ دل کی ہر آتی جاتی دھڑکن اللہ پکارے۔ 


اللہ سے قرب چاہتے ہو اور چاہتے ہو کہ اللہ تمہیں اپنے سے بہت قریب کر لے تو استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لو۔ اور اس پر عمل کرو۔ گناہوں کی زندگی چھوڑ کر پاکیزہ زندگی اختیار کرو۔ اللہ تمہیں اپنا محبوب بنا لیگا۔

دنیا میں بڑے بڑے ولیوں اور صوفیاء کرام نے اللہ کے اسم اعظم سے اللہ کو پایا ہے۔ اللہ کا ذاتی نام حجابات اٹھا دیتا ہے۔ جنھیں اسم اللہ کی حلاوت نصیب ہو جائے وہ پھر اللہ کے اس مبارک نام کو کبھی نہیں چھوڑتے۔ 









اللہ کے ولی اللہ کے حکم سے بندوں کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ کے ولی زمین میں اللہ کے حکم سے معاون و مددگار ہوتے ہیں۔ مخلوق خدا ان سے فیض یاب ہوتی ہے۔


 قرآن کریم میں رزق حلال کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ جس انسان کی کمائی کا ذریعہ حرام راستہ ہو اس کی کوئی بھی عبادت بارگاہ خداوندی میں قبول نہیں کی جائے گی۔ ہر عبادت کا دارومدار رزق حلال پر ہے۔ حدیث مبارک ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کا ایندھن بننے سے بچاؤ۔ صحابہ کرام نے جب اس کی تشریح چاہی تو فرمایا۔۔۔۔۔۔۔  اپنے گھر والوں کو لقمہ حرام سے بچاؤ۔ حرام رزق کھانے والا جسم جہنم کا ایندھن بننے کے لئے تیار ہو جائے۔ اللہ فرماتا ہے زمین میں پھیل جاؤ اور اس کا فضل تلاش کرو بیشک اس کا فضل ہر چیز پر حاوی ہے۔ انسان کا رزق انسان کو ڈھونڈ تا ہے۔ موت انسان کا اتنا پیچھا نہیں کرتی جتنا رزق کرتا ہے۔ جب اللہ نے رزق دینے کا وعدہ کیا ہے اور وہ دیتا ہے تو پھر حرام راستے کیوں سپنذئے
++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++

صدقہ فطر اور اسلام میں اس کی اہمیت





* صدقہِ فطر *


اسلام ایک بہت ہی پیارا اور سہل مذہب ہے۔ یہ اپنے ماننے والوں کو ایسی راہیں عطا کرتا ہے جس پر چل کر اس کی دنیا و آخرت دونوں سنور جائے نکھر جائے۔ اسلام کی ہر عبادت بندے کو خدا سے جوڑ دیتی ہے۔ اسلام کی ہر عبادت میں انسان کو اللہ کا قرب نصیب ہوتا ہے۔

یہ اللہ کی شان کریمی ہے کہ اس نے ہمارے لئے ایسے راستے پیدا فرمائے ہیں جن سے ہماری بخشش کا سامان ہوتا رہے اور ہماری عبادتوں کی تطہیر ہوتی رہے۔

Sadqa e fitar ( Charity):

Islam is a very sweet،pure , lovely and comfortable one religion.
It refers to those who follow their paths, and follow the world's , world and the Hereafter.
Every worship of Islam connects the slave to Allah. In the worship of Allah, the servant gives thanks to Allah.
It is a mercy to Allaah that he provided such paths for us. 
Those who have the goods of our forgiveness and their worship are implanted.
 Allah is Most Merciful over His servants.

* صدقہِ فطر کیا ہے ؟ *

رمضان المبارک کے روزے پورے ہونے کا شکرانہ ادا کرنا صدقہِ فطر کہلاتا ہے۔
صدقہِ فطر کی وجہ سے ہی اس عید کو عیدالفطر کہا جاتا ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو مقرر کر کے مکہ مکرمہ میں اعلان کروایا کہ صدقہِ فطر ہر مسلمان مرد اور عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، آزاد اور غلام سب پر واجب ہے۔ ( ابو داؤد) 
اگر کسی مسلمان نے رمضان المبارک کے روزے نہیں بھی رکھے تو بھی اس پر صدقہِ فطر واجب ہوتا ہے۔ صدقہِ فطر کی ادائیگی کے لیے روزہ شرط نہیں ہے۔ 
اس کی ادائیگی سے ضرورت مندوں کی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور انسان کے حصے میں اجرو ثواب آتا ہے۔ معاشرے میں امن پیدا ہوتا ہے۔ اور دولت کی تقسیم کا عمل ہوتا ہے۔ 
روزے کے ساتھ ساتھ دولت کی تطہیر بھی ہوتی ہے۔

* What is Sadqa e fitar ?*

Islam is a very lovely and pure religion, It gives such people the path to which the world and the Hereafter should go and become sunnah.
 There is a love in Islam's worship that is not found by the followers of any other religion. 
Allah's blessing in every worship of Islam. 
Wisdom is hidden in every worship of Islam. 
Everything in Islam combines man to his Allah.
 It is a mercy to Allaah that he has made such ways smooth for us, which is a gift for us. The Lord of the Worlds also used to abstain from worship.

 Allah is truly merciful to his servants. He wants the worship of his servants to be thoroughly crossed to the Throne.

The(صدقہ فطر) charity is also the same worship of Islam .

Let us know that the charity is futile. 

how is it paid?

Who else is required to pay?

* What is Sadqa e fitar (charity)? *

Praise be to Allaah, giving thanks to the Ramadaan fasting, is called charity. 
This festival is called Eid al-Fitr due to charity.

The Messenger of Allaah (peace and blessings of Allaah be upon him), Muhammad (SAW) set a man and declared in Mecca,
That charity is obligatory on every Muslim male and female, small, and big person,free and slave.
 ( Abu Dawood)

If a Muslim does not fast Ramadan, then charity is obligatory on it.

The fasting is not fast for paying charity . 
This payment meets the needs of the needy and there is a reward for reward in human. 
Peace is established in the society, And there is a process of distribution of wealth and fasting was also the rule of wealth as well . 

* صدقہِ فطر کی حکمت * 

حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ۔۔۔۔
صدقہ فطر ادا کرو اس سے لغو باتوں کا کفارہ ہوتا ہے، اور یہ روزے کا صدقہ ہے روزے کا فدیہ ہے اس سے روزے کی تطہیر ہوتی ہے۔
فطرہ ادا کرنے کی دو حکمتیں ہیں
1۔ لغو باتوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ روزوں میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو وہ فطرانہ سے پوری ہو جاتی ہے۔
2۔ مستحقین کو ان کا حق مل جاتا ہے۔عید کی خوشیوں میں وہ بھی شامل ہو جاتے ہیں۔

 * The wisdom of charity *

Hadith is the meaning of Mubarak Pay charity, it would have been an expiation for unusual things,
And it is charity and ritual of fasting, it would have been fasting.
If there is a shortage in the fast, then the charity is fulfilled due to the futility. 
There are two strategies to pay attention. 

1. You should be cursed for things. Deserves its right. Poor people get the right. They also join Eid's happiness.

* صدقہ فطر کس پر واجب ہے؟ *

صدقہ فطر ہر مسلمان پر واجب ہے۔ فجر سے پہلے جو بچہ اس دنیا میں آجائے اس پر بھی فطرانہ واجب ہوتا ہے۔ 
جس نے صبح صادق پالی اس پر فطرانہ واجب ہوتا ہے۔
علماء کرام فرماتے ہیں جو بچہ ماں کے شکم میں ہو اس کا بھی فطرانہ نکال دینا چاہیے۔
فطرانہ ایک طرح سے آپ کی مصیبتوں اور پریشانیوں کو دور کرنے کا سبب بنتا ہے۔
اس عمل سے چونکہ ضرورت مندوں کی ضروریات پوری ہوتی ہیں اسلیے اس کی برکت سے بندوں کی مشکلات اور پریشانیاں بھی دور ہوتی ہیں۔
مالک نصاب پر صدقہ فطر واجب ہوتا ہے۔ گھر کا سر پرست تمام گھر والوں کا صدقہِ فطر ادا کرے جو اس کی سر پرستی میں ہیں۔
مجنوں اولاد بالغ ہو یا نا بالغ، والد اس کا فطرہ ادا کرے اگر والد حیات نہیں ہے تو پھر یہ ذمہ داری دادا پر عائد ہوتی ہے۔
 ماں پر فطرانہ ادا کرنے کی زمہ داری نہیں ہوتی لیکن اگر ماں صاحب حیثیت ہے تو ادا کر سکتی ہے اللہ اس کا اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔

ہر فرد اپنا فطرہ خود بھی نکال سکتا ہے اگر وہ صاحب نصاب ہے اس کے پاس اتنا مال ہے کہ وہ فطرانہ ادا کر سکتا ہے تو پھر اپنا فطرہ خود ادا کرے اور ثواب کمائے۔

* What is obligatory on charity? *

The charity is obligatory on every Muslim.
It is obligatory that the child who is present in this world. Whoever is obliged to perform sincerity in the morning.
The scholars say that whatever is in the mother's womb is obligatory.
The spirit causes you to overcome your problems and problems in one way, Since the needs of the needy get fulfilled, the blessings and troubles of the person who are blessed are also far away.
Charity is obligatory on the master's curriculum.
The head of the house should pay attention to the underworld.
 The children are adolescent or adolescent, the father of children who pay attention to it.
If the father is not alive, then the grandfather's duty is to pay his attention.
It is not obligatory for a mother to pay fast but if she is a syllabus and pays fast, Allah will give him the best reward.
Each person can also get his own self.If a person is a syllabus and Allah has given him so much that he can take away his self, then he should give himself and earn reward.

* صدقہ فطر کے مستحقین *

فطرانہ انہی لوگوں کو دینا چاہیے جو زکوٰۃ کے مستحق ہوتے ہیں۔ مستحقین کو ڈھونڈ کر ان کا حق ان تک پہنچانے کی کوشش کی جائے۔

اپنے جائز مال کو جائز لوگوں تک پہنچائیں۔
انہیں ان کا حق پوری عزت اور اکرام کے ساتھ ادا کریں۔ آپ خوش قسمت ہیں کہ وہ آپ کے مال لینے کا وسیلہ بن رہے ہیں اور آپ اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو اس کام کے لیے چنا۔

رزق کی زمہ داری اللہ نے اپنے ذمہ لی ہے اور اس زمہ داری میں اللہ نے آپ کو حصہ دیا۔ یہ اس کی شان کریمی ہے۔ 

* مصارف صدقہ فطر *

صدقہ فطر کے مستحقین سب سے پہلے قریبی عزیز رشتہ دار ہیں۔
اپنے قریبی رشتہ داروں کو فطرانہ دینا اولی و افضل ہے۔
بھائی، بہن، بھانجا، بھانجی، بھتیجا، بھتیجی، پھوپھی، خالہ، ماموں، سوتیلے ماں باپ، ساس سسر، سالہ سالی، اگر زکوٰۃ کے مستحق ہیں تو فطرانہ انہیں دیا جا سکتا ہے۔
فطرانہ براہ راست مسجد میں نہیں دے سکتے کسی کو مالک بنانا ہوگا ۔ 
صدقہ فطر ہوتا ہی اسی لئے ہے کہ نادار اور غریب لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں۔
عید کے دن کم از کم کسی کے لبوں پر کوئی شکایت نہ ہو، کسی کے گھر کا چولھا بند نہ رہے۔کسی کے بدن پر پرانا لباس نہ ہو، سب کے چہروں پر مسکراہٹیں رقصاں ہوں۔صدقہ فطر کی وجہ سے ہی اس عید کو عیدالفطر کا نام دیا گیا ہے۔

* Charity futile people *

Fitr should be given to those who are entitled to Zakat.
Find the deserved people and get them their goods.
Reach your legitimate and lawful earnings to the right people.
Pay them their property with full respect and honor.
You are fortunate that they are making the means to get your goods.
And you are also fortunate in that Allah chose you for this work.It is the responsibility of Allah Almighty to take care of Himself in the matter of His provision.
Allah is giving you resources in the distribution of sustenance, it is honorable for slaves.
We should thank Allah, that he gave us the opportunity to serve it........ 
The charity is the first relative to be entitled to Fitr.It is fast to pay attention to your close relatives. It is permissible to give relatives whose zakaat is permissible۔
Such as brother, sister, and his her son's, doughter,  nephew, mother in law, father in law, brother in law, sister in law.
Anyone who can not do it directly in the mosque will have to make it own۔
It is because of the fact that on the Day of Eid, no poor people are deprived of the poor .
Do not shut down a poor stove.
Do not wear old clothes on anyone's body.
Do not complain to anyone's lips Smiles are dance on everyone's faces.
 Everyone thanked Allah, Because of this, this festival is called Eid al-Fitr.

* صدقہ فطر کی ادائیگی کا وقت *

صدقہ فطر کب ادا کرنا چاہیے؟

صدقہ فطر کی ادائیگی کا صحیح وقت شوال کے چاند کے بعد اور عید کی نماز سے پہلے کا ہے۔
صدقہ فطر عید کی نماز سے پہلے پہلے ادا کر دینا چاہیے۔
جس نے عید کی نماز کے بعد ادا کیا وہ صدقہِ فطر نہ ہوا وہ صرف صدقہ ہوا اسے صرف صدقے کا ثواب ملے گا فطرانہ کے ثواب سے محروم رہے گا۔ اور جب اللہ تعالٰی نے عبادات کی ادائیگی کے لیے اوقات مقرر کئے ہیں تو ان اوقات کا خیال رکھتے ہوئے ادا کیا جائے تاکہ عبادت کی اصل روح حاصل ہو اور ہماری عبادتیں اللہ کی بارگاہ میں قبولیت پا جائیں۔

جس نے عید کی نماز سے پہلے صدقہِ فطر ادا کیا تو یہ زکوٰۃ مقبولہ ہے اور جس نے عید کی نماز کے بعد ادا کیا تو یہ صدقوں میں سے ایک صدقہ ہے۔ (بیہقی)

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شوال کا چاند دیکھنے کے بعد صدقہ فطر ادا فرماتے تھے۔

* Charity payment time *

When should charity be paid? 

The right time for paying charity fasts is after the Shawl moon and before the Eid prayer.
The charity should be paid before the Fitr prayer.
The one who paid fasts before the 'Eid prayer, he paid charity fitr and it was Zakat popular, and whoever paid after the 'Eid prayer, it was not fatal, it was a general charity, he would not get the reward of Fitrah.
Allaah has set times for the right payment of worship, We should consider the times that our worship is popular in Allah's sight.
Performing the worship at the time of worship is the real spirit of worship only.

The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) used to pay fatal after seeing the moon of Shawl ۔

* صدقہ فطر ادا نہ کیا جائے تو کیا ہوتا ہے *

 حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ۔۔۔۔
" اگر صدقہ فطر ادا نہ کیا جائے تو بندے کا روزہ زمین وآسمان کے درمیان معلق یعنی لٹکا رہتا ہے"

روزے کی قبولیت کے لئے ضروری ہے کہ فطرانہ ادا کیا جائے اور روزے کی تطہیر کی جائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ چاہتا ہے کہ بندوں کی عبادات پاکیزہ ہو کر عرش پر چڑھے۔ اللہ بندوں کی عبادات پر فرشتوں سے فخر فرماتا ہے۔

*What happens when the charity is not paid?*

 The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: 

Anas ibn Malik (may Allaah be pleased with him) said: 

"If the charity is not paid for the fasting, the fasting of the slave is bound between the earth and the sky."
It is necessary for fasting and adherence to fasting.
Allah wants the Worship to be cleansed and cross the Throne .
The worship of such worship is very high in Allah's sight.
Allah will be proud of the angels.

* صدقہ فطر کیوں واجب کیا گیا؟ *

امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں 

"کہ اللہ نے بندوں پر صدقہ فطر اس لیے واجب کیا کہ رزق کی جو ذمہ داری اللہ نے اپنے اوپر لی ہے اللہ اس ذمہ داری کو بندوں کے ذریعے سے پوری کرنا چاہتا ہے۔ 

اللہ تبارک وتعالیٰ تمہیں کسی کے لئے وسیلہ بنا کر تمہیں اجر و ثواب سے نوازنا چاہتا ہے۔"

اللہ تبارک وتعالیٰ نے کسی کے حصّے کا رزق تمہارے ہاتھوں لکھا ہے۔ 
اور وہ چاہتا ہے کہ خوشی کے اس موقع پر کوئی خوشیوں سے محروم نہ رہے۔ عید کی خوشیوں میں سب برابر کے شامل ہوں۔

* Why is charity obligatory? *

Imam  Azam Abu Hanifa says,

"Allaah has obliged the charity for the purpose of the provision of sustenance that Allah has taken upon Him, He wants to fulfill this world through His servants. Allah wants you to reward you by means of any means for you. He wrote somebody's share of your hands۔"

Allah wants that there is nothing left on this occasion of happiness.
All of them are equally co-partners in Eid's happiness.

* کن لوگوں کو فطرانہ نہیں دیا جاسکتا *

ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی، بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسہ نواسی، شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو، فطرہ نہیں دے سکتے، خاندان میں سید ہو تو سید کو فطرانہ نہیں دے سکتے۔

 * They could not afford charity * 

parents, Grandpa Grandma, Granny, Son, Daughter, Grandson , Grand daughter.
 The husband may not give charity to the wife , And the wife can not give her husband .
It is not charity for the family to be Syed.

* قرآن میں صدقہ فطر کا ذکر *

قرآن میں صدقات کے لئے گندم، چاول، گیہوں، جو اور کھجور کا ذکر ہوا ہے کیونکہ یہ عربوں کی مرغوب ترین غذائیں تھیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین انہی چیزوں کا صدقہ اور فطرانہ ادا کرتے تھے۔
انسان کی ضروریات انہی سے پوری ہوتی ہیں گندم انسان کی قیامت تک کی ضرورت ہے۔ 
فطرانہ انہی اشیاء میں سے دینا ہوتا ہے جو آپ اپنی روزمرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں اگر کوئی گندم کا فطرہ دینا چاہتا ہے تو اس کو اسی گندم سے فطرے کا حساب نکالنا ہوگا جس قیمت کا گندم وہ اپنی روز مرہ زندگی میں استعمال کرتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ خود تو مہنگے والا گندم استعمال کرتا ہو اور فطرانہ کے لیے ہلکی قیمت والے گندم کا حساب لگائے۔ اللہ کی راہ میں ہمیشہ بہترین چیز پیش کرو۔ یہ ایک قرض حسنہ ہوتا ہے جو اللہ بندوں کو بڑھا چڑھا کر واپس کرتا ہے۔ 

قرآن کریم میں گندم کا تزکرہ آیا ہے اس کی دو حکمتیں بتائی جاتی ہیں۔

1 ۔ دینے والے کے لیے آسانی ہو۔ اور دوسروں کی ضرورت بھی پوری ہو جائے۔

2 ۔ اللہ تعالیٰ نے پیسوں کا تزکرہ نہیں کیا۔ اللہ نے گندم کو بیان فرمایا تاکہ ہر دور کے لوگ گندم کی قیمت کے حساب سے فطرہ ادا کریں۔
معیار مقرر کرنے کے لیے اللہ نے گندم کو چنا۔ گندم کو پیمانہ بنایا۔

فصل کی کٹائی کے بعد اس کا عشر نکلتا ہے۔ 
قرآن کہتا ہے
جب کھیتی کٹے گی اس میں اللہ کا حق نکال کر رکھو۔ کھیتی پر اللہ کا حق ہے۔
اگر فصل بارش کے پانی سے سیراب ہوئی ہے تو دسواں حصہ۔ اگر فصل ٹیوب ویل سے سیراب ہوئی ہے تو بیسواں حصہ۔
گندم کی فصل ہے تو گندم کا عشر گندم سے ہی نکالنا ہوگا۔ 

* The Qur'an mentions charity.*

Wheat rice and palm have been mentioned for the times in the Quran. Because it was the nutritious diet of Arab people .

The companions used to pay charity and charity with these things .
The needs of human life are fulfilled by these things .
Wheat grains are essential for the human being till the end.

To pay for free you will get an account that you use for daily basis.
Always present the best thing in God's way.
 This is a loan that Allah gives back to His servants.

Quran refers to wheat Two tips are described. 

1. The charity fosterer is easy and the other needs to be fulfilled.

2. Secondly, Allah did not mention the money Rather, quality of wheat ,People of every round pay charity as per the price of wheat.

Allah chose wheat to set the quality. 

Make a measure of paying food to wheat. Its harvest comes out after harvesting .
The Qur'an says.
 Allah has the right to cultivate When harvesting, then take away the right of Allah. 
The thing that the crop is sowing is also the same If the crop is rainy with rain water, the tenth part ,And if the tube is rolled out, then the twelfth part will have to be given in the way of Allah.
 It is Allah's decision and can not change it.

* مقدار صدقہ فطر *

صدقہ فطر کی مقدار کم از کم ڈھائی کلو اناج اور گندم کی مقدار ہے اور اگر اللہ نے کسی کو بہت زیادہ نوازا ہے تو وہ اس سے زیادہ بھی دے سکتا ہے۔
جتنا زیادہ دینا چاہیں وہ افضل ہے قرآن میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔
" پھر جو اپنی خوشی سے فدیہ کی مقدار بڑھا کر زیادہ نیکی کرے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے"
( سورہ البقرہ۔۔۔ 184)

اللہ نے جن کے  رزق میں کشادگی، وسعت و برکت عطا کی ہے وہ اپنے معیار کو پیش نظر رکھ کر فطرانہ ادا کریں۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

" تم جو بھی نیکی اللہ کی راہ میں بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے"
صدقہ فطر کی شرعی مقدار ایک صاع ہے اور ایک صاع ڈھائی کلو کے برابر ہوتا ہے۔
جس چیز پر بھی آپ فطرہ نکالیں گے وہ ڈھائی کلو کے حساب سے نکالیں گے۔

* Charity diet curriculum *

The amount of charity is at least 2.5 kilograms of wheat or the amount of grain.
 If Allah has given you then you can give more.
The more you want to give it is better.
 In the Qur'an  Allah says ,

"Then who increases the amount of rendering with pleasure, makes it more good, it is better for him."

Allah says ,

"Whatever good deeds you send in the way of Allah will be seen in the presence of Allah."

Charity feeding method is 2.5 kg wheat.
The price of wheat 2.5 kilograms will be the charity of a servant If you want, you can donate wheat and you can donate money.

IMAGES






اگر کوئی شخص تمام عمر نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور تلاوت قرآن جیسی جملہ عبادات میں مصروف رہا لیکن اسم اللہ اور اسم محمد سے بے خبر رہا اور وہ ان دونوں اسماء پاک کے ذکر میں مشغول نہیں رہا تو کوئی فائدہ نہیں اس کی ساری عمر کی عبادت وریاضت برباد اور ضائع ہو گئی۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔۔۔۔۔ جیسے پیدا ہوئے ویسے ہی مر گئے اور جیسے مرے ویسے ہی اٹھا ئے جائیں گے۔








قرآن کریم کا ارشاد ہے۔۔ 
اے لوگو ! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بنو۔۔ 
قرآن کریم چاہتا ہے کہ اس کے ماننے والوں میں تقوی پیدا ہو۔ اور تقویٰ کا مطلب پرہیز گاری ہے ۔ اللہ سے ڈرتے ہوئے زندگی گزارنا تقوی ہے۔ زندگی کے ہر معاملے میں یہ احساس رکھنا کہ جو کام میں کر رہا ہوں وہ دین اسلام کے مطابق صحیح ہے بھی یا نہیں۔۔۔۔ 

اس امت پر بھی اللہ نے روزے فرض کئے تاکہ امت مسلمہ میں تقوی کی صفات پیدا ہو۔  
 For more details,, visit... Facebook.com/    Articlesbyshumaila.com





قرآن کریم برکتوں اور رحمتوں کا خزینہ ہے۔ جو قرآن سے محبت رکھتا ہے تو قرآن اس سے محبت رکھتا ہے۔ قرآن کی شفاعت اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہے۔ کل بروز قیامت اللہ کے حضور بندے کا سفارشی بن کر کھڑا ہو گا اور جب تک اپنے پڑھنے والے کو بخشوا نہیں لیگا اللہ کے دربار میں کھڑا رہیگا۔






اگر اللہ رب العالمین حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نور کو تخلیق نہ فرماتے تو باقی عالم کو بھی پیدا نہ فرماتے کیونکہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی وجہ سے باقی عالم کو پیدا کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب کائنات کو بنانا چاہا تو اپنے نور کا ظہور اسم اللہ ذات کی صورت میں کیا پھر اس نور سے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیدا فرمایا۔


مسکراہٹ خالص ہو تو انسان کے چہرے پر لالی بکھیر دیتی ہے۔ ایک جاندار مسکراہٹ میں دوسرے لوگ بھی جیتے ہیں۔ 


اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرنے والے ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں۔ 
اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے
  اگر تم چاہتے ہو کہ تمہیں کامیابی و فلاح ملے تو اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرو۔
کامیابی اور فلاح انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے جن کی دھڑکنیں اللہ کے ذکر سے آباد ہوتی ہیں۔




جب اللہ کی کھلی ہوئی نشانیاں آجائیں اور مشرکین ماننے سے انکار کر دیں آنکھیں سچ دیکھ کر بھی مکر جائیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں دھڑکتے ہیں کیونکہ گواہی دل کی ہوتی ہے۔ 



کائنات کے خالق نے جو بھی چیز بنائی بہت خوب بنائی۔ اس کی صناعی میں کہیں کوئی نقص نہیں۔  ہر چیز بڑے حساب اور پیمانے سے بنائی۔ قدرت کے اس کارخانے میں ہر چیز انوکھی اور نرالی ہے۔ انسان کو بنا کر فرمایا سب سے بہترین تخلیق انسان ہے۔ پھر اس میں اپنی روح پھونک کر فرشتوں سے سجدہ کروایا اور علم کی عظمت دے کر فرشتوں سے بھی بلند و برتر کر دیا۔ واہ رے انسان تیری عظمت۔ اب اگر وہ ھدایت کے راستے پر چلے تو اس کی عظمت باقی رہتی ہے اور وہ فرشتوں سے بھی برتر ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس نے گمراہی کا راستہ اپنا لیا تو وہ رزیل ہو جائے گا۔ شیطان کے پیروکار کو کہیں فلاح نہیں ملتی۔ 


جو لوگ اللہ کے نام کا مزہ چکھ لیتے ہیں وہ اللہ کے ذاتی اسم کو جو کہ اسم اعظم بھی ہے، کبھی نہیں چھوڑتے۔ اللہ کا یہ نام انسان کی ہر جگہ کفایت و کفالت کرتا ہے۔ اس نام کی شمع جلا کر دیکھو دل کی اندھیر نگری میں روشنی کے دیپ جل اٹھیں گے۔ اپنے دلوں کو اللہ کے ذکر سے آباد رکھو۔ رحمت خداوندی ہر دم ساتھ رہے گی۔










قرآن کریم میں اللہ کا ارشاد ہے۔۔ اللہ کی رحمت استغفار کرنے والوں سے قریب ہے۔ جو سچے دل سے توبہ کرتے ہیں اللہ ان کی توبہ قبول فرماتا ہے اور ان کے مراتب و درجات بلند فرما دیتا ہے۔ یہ اللہ کا احسان ہے کہ وہ بندوں کو اپنے قرب کے بہت سے راستے عطا فرماتا ہے۔ اس کی عطا، رحمت و بخشش بندوں کو دینے کے بہانے ڈھونڈ تی ہے ۔ لینے والے ہونے چاہئیں۔ وہ تو بندوں کی چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو بھی اپنی جناب میں عظمت عطا فرما دیتا ہے۔ انسان کو شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس کا خالق ومالک اور پالنہار وہ ہے جو سارے عالمین کا رب ہے۔ اللہ سے معافی مانگتے رہو۔ وہ معاف فرما دیتا ہے۔ 
یا اللہ! ہمیں معاف کر دے کیونکہ تو معافی کو پسند فرماتا ہے۔





اللہ تبارک و تعالیٰ ہم پر اپنا خصوصی کرم فرمائے۔ اس ماہ مبارک کو ہماری بخشش کا ذریعہ بنا دے۔ اللہ کے خزانوں میں کسی چیز کی کمی نہیں وہ مالک دو جہاں ہمارا رب اور پالنہار ہے۔ اے اللہ ہماری خطاؤں سے درگزر فرما، ہمارے حال پر رحم فرما اور  ہر مسلمان کی تمام پریشانیوں کو دور فرما کر ان کی جائز حاجات کو پورا کردے۔ 

الوداع اے ماہِ رمضان
الوداع اے ایک ماہ کے مہمان
اللہ تمہارا نگہبان ہو
محشر میں ہمیں یاد رکھنا
تیرے جانے سے ہمیشہ دل اداس ہو جاتا ہے
اللہ نگہبان
++++++++++++++++++++++++++++++++++++++

ستائیس رمضان المبارک اور قیام پاکستان

       پاکستان کا خطہ خدائے بزرگ وبرتر کی طرف سے ہمارے لئے ایک


انمول اور عظیم تحفہ ہے۔ اور اس تحفہ خداوندی کی حفاظت ہماری گھٹی میں شامل ہے اپنے وقت کے حکیم الامت حضرت علامہ اقبال فرماتے ہیں 

تین سو   سال   سے    ہے    ھند کے میخانے    بند 

اب   مناسب   ہے  ترا    فیض   عام ہو اے ساقی 

دعا کی قبولیت کا وقت آتا ہے اور 14 اگست 1947 ستائیس رمضان المبارک کو خورشید فقر طلوع ہوتا ہے اور "ہندوستا کی سر زمین پر یہ نعرہ گونجتا ہے

 "  پاک سر زمین شاد باد ۔

اور وہ دھرتی جو ھندوؤں کی ہوتی ہے وہ دھرتی سوہنی دھرتی بن جاتی ہے 

آج وطن عزیز جن حالات واقعات سے گزر رہا ہے وہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک قوم کی حیثیت سے مخالف قوتوں کا نہ صرف ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے بلکہ ہمیں ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر اتحاد و یگانگت کا عملی ثبوت دینا چاہیے۔ اور ہر طرح کے خلفشار اور بد امنی کا تدراک کرنا چاہیے،یہ سب کچھ ممکنات میں سے ہے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگیوں میں امن قائم ہو زندگیوں سے بے چینی دور ہو تو ہمیں صوفیائے کرام کی تعلیمات پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ اور امن و آشتی کا جو درس انہوں نے دیا ہے اسے اپنی زیست کا محور بنا کر ایک قوم ہونے کا ثبوت دینا ہوگا۔ ہمیں صوفیاء کے افکار و فرمودات کو اپنی حیات مستعار کا محور و مرکز بنانا ہوگا اس میں ہماری فلاح بھی ہے اور نجات بھی۔۔ صوفیائے کرام نے پیار و محبت سے لوگوں کے دلوں کو تسخیر کیا لوگوں کے دکھ بانٹے اور دلوں سے کدورت اور میل نکال کر انہیں شفافیت عطا کی جو اللہ اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راستہ ہے۔ جو ہر ذی روح کو سکون اور طمانیت بخشتا ہے، صوفیائے کرام نے اسی راستے پر چلنے کی تلقین کی۔ 

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں معاشرے کو اہمیت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت لیکر دنیا میں چھا جانے کا نام اسلام ہے اور ہمارے صوفیائے کرام اس کی عملی تفسیر ہیں ۔ اقبال نے بھی وضاحت کی ہے۔  

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری

کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری

 اقبال نے امت مسلمہ کی تمام قیادتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی اقبال ایک ایسے مرد مومن کی تلاش میں ہیں جو قوم کی ناؤ کو طوفان سے نکال کر ساحل سے ہم کنار کر دے۔اقبال فقر کے عریاں ہونے کی تمنا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فقر عریاں غزوات بدر و حنین کی گرمی ہے۔ فقر عریاں امام حسین عالی مقام کی تکبیر کی آواز ہے۔ اقبال کے نزدیک فقر کا عیاں اور عریاں نہ ہونا ہی امت کی پستی و زبوں حالی کا سبب ہے۔ 



*ہم اپنا کھویا ہوا وقار کیسے حاصل کر سکتے ہیں*   

 آئیے سلطان باہو کی جناب میں حاضر ہو کر معلوم کرتے ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں کہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احیاء ہے کہ مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور جب یہ تنکے بکھر جائیں انہیں پھر ایک جگہ جمع و یکجا کر دو اور یہ مشکل ترین کام زمانے سے ہٹ کر نہیں بلکہ زمانے کے تناظر میں رہ کر کرنا ہے۔ جس کی نشاندھی اقبال نے کچھ اس طرح کی ہے۔

  قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے

  دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے 

سلطان باہو کا پیغام ہیکہ روحانی ترقی کے ساتھ ساتھ مادی ترقی کو بھی اپنائیں وگرنہ مسلمان دوسری قوموں کے زیر آجائیں گے اور اپنا تشخص کھو بیٹھیں گے۔ آپ فرماتے ہیں

   روحانی ترقی + مادی ترقی= استحکام 

پاکستان کے عوام اس وقت ایک ایسی بڑی تبدیلی چاہتے ہیں کہ انہیں مغربی سامراج اور سرمایہ دارانہ نظام سے مکمل آزادی حاصل ہو اور عدل و انصاف پر مبنی ایک اسلامی نظام قائم ہو۔ 

اس کے لئے امت کے اتحاد کی ضرورت ہے اور یہ اتحاد اس وقت پیدا ہو سکتا ہے جب مخلص مسلمان اس کام کے لئے کمر بستہ ہوں اور مسلمانوں کو قرآن و سنت کی واضح اور روشن تعلیمات پر اکھٹا کر دیں۔ یہ مقصد اس وقت حاصل ہو سکتا ہے جب ہم توحید خالص کی تعلیم دیں۔ اللہ کی بندگی کی طرف لوگوں کو دعوت دیں۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقش قدم پر چلیں۔ 

اللہ رب العالمین کا ارشاد پاک موجود ہے۔ 

تمہارے لئے میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے۔

 اللہ فرماتا ہے۔۔۔۔۔

 فلاح ان لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو اللہ کی رضا کے طلب گار ہیں، جو آخرت کی کامیابی چاہتے ہیں، اور جو کثرت سے اللہ کو یاد رکھتے ہیں ۔ حضرت سلطان باہو سچے صوفی کا پیغام ہے۔۔۔۔۔ 

 نئے چاند کی طرح منزل کی طرف کوشش کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جاؤ، اس نیلی فضا میں ہر وقت پھیلتے چلے جاؤ،  اگر اس دنیا میں اپنا حقیقی مقام حاصل کرنا چاہتے ہو تو اللہ کے ساتھ دل باندھ لو، اور مصطفوی اسوہ حسنہ اپنالو، اسی میں دارین کی فلاح و کامیابی کا راز چھپا ہے۔وطن عزیز بڑی قربانیوں کے بعد ملا ہے بہت بڑی شب کا بہت بڑا تحفہ ہے اس کی قدر کیجئے اپنے حصے کا کام کیجیے ہمارا مشن ہونا چاہیے کہ اللہ کے بندوں کو اس کی وحدانیت کی طرف لے آئیں تبھی ہم ایک مرکز پر جمع ہوسکتے ہیں کیونکہ اس مرکز پر خدا ایک، رسول ایک، قرآن ایک، کلمہ ایک ہوجاتا ہے پھر اختلاف کی گنجائش نہیں رہتی۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو ۔ اور پاک رب العالمین وطن عزیز کی ہمیشہ حفاظت فرمائے ۔ آمین ثم آمین یارب العالمی


                         اللہ تبارک وتعالیٰ کا ذکر عذاب الہٰی سے نجات کا ذریعہ ہے    

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

" عذاب الہٰی سے نجات کے لیئے آدمی کے پاس اللہ کے ذکر کے علاوہ کوئی معتبر عمل نہیں ہے"

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا،
کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی ذکر اللہ سے بہتر نجات دہندہ نہیں ہے؟
فرمایا۔۔۔۔ ہاں جہاد بھی نہیں۔  اگر چہ تمام جہاد میں تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے ہی کیوں نہ کر دیئے جائیں۔ "

فرمانِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے،

" جب کبھی جنت کے باغوں سے گزرا کرو تو ان میں چر لیا کرو۔۔۔۔
صحابہ کرام نے عرض کیا۔۔۔
کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! مگر جنت کے باغوں سے کیا مراد ہے؟
فرمایا۔۔۔۔۔
ذکر اللہ کی مجالس۔"

** فرشتے اہل ذکر کی تلاش میں **

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان مبارک ہے۔۔۔۔

" بیشک اللہ کے فرشتے چل پھر کر اہل ذکر کو تلاش کرتے رہتے ہیں، جب وہ کسی گروہ کو اللہ کے ذکر میں مشغول پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو ان مطلوب ذاکرین کی طرف بلاتے ہیں،
پس وہ اہل ذکر کو آسمان دنیا تک اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں۔"

آج شب قدر کی برکت، عظمت و رفعت و برکات والی رات ہے۔ بندوں پر اللہ کا بہت ہی عظیم تحفہ ہے یہ رات۔ آئیے اس رات میں اپنے خالق حقیقی سے رازونیاز کر لیں۔ وہ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ ایک ماں کے مقابلے میں ستر گنا زیادہ اپنے بندوں سے محبت فرماتا ہے۔

آئیے اس کی عظیم بارگاہ میں جبین نیاز جھکا دیں۔ وہ رحیم ہے کریم ہے، اپنی شان ستاریت کا پردہ ہمارے گناہوں پر ڈال دے گا۔

آئیے اس عہد کو دہرائیں جو اس ارواحِ آدم سے لیا تھا۔
وہ عہد کیا تھا؟؟؟؟

وہ عہد تھا۔۔۔
تم میرے ساتھ اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کرنا،
تو میں تمہارے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا کروں گا

اللہ نے ارواحِ آدم سے کیا عہد لیا تھا؟؟

اللہ تبارک و تعالیٰ نے عہد لیا تھا۔۔۔
کہ جب میری طرف سے کوئی ہدایت تمہاری طرف آئے تو اس کی پیروی کرنا، میرے پیغمبروں کا ساتھ دینا۔ اور اللہ کے پیغام کو اس کے احکامات کو آگے پہنچاتے رہنا۔ اللہ کی مقرر کردہ حدود میں رہنا ۔
اولاد آدم نے اللہ کے ساتھ اس عہد کے نبھانے کا وعدہ کیا۔
اللہ نے جواب میں ارشاد فرمایا،
پھر میں اپنا عہد پورا کروں گا۔
اور
اللہ کا وعدہ بندوں کے ساتھ یہ تھا،

ہمیشہ رہنے والی جنت تمہارا انتظار کرے گی۔
دنیا سے اس حال میں رخصت ہو گے کہ اللہ فرمائے گا،
تم اللہ سے راضی ہوئے، اور اللہ تم سے راضی ہوا۔ اب مطمئن ہو کر جنت میں آ۔ اور یہاں آرام کر۔
یہ اللہ کا عہد ہے جو وہ اپنے بندوں کے ساتھ پورا کرے گا۔

اے باری تعالیٰ آج کی مبارک ساعتوں میں ہماری دعاؤں کو شرفِ قبولیت عطا فرما۔

اے مولا! میری، میرے والدین کی، جو ایمان والے میرے گھر میں داخل ہوں ان کی اور تمام امت مسلمہ کی اور خصوصاً امت محمدیہ کی بخشش و مغفرت فرما دے۔

یا اللہ! تو ہم سے راضی ہو جا۔ ہمیں جہنم سے خلاصی عطا فرما۔

یا اللہ ہمیں تیرا قرب نصیب ہو۔
یا اللہ ! ہمیں اپنا عہد پورا کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔
اے پاک پروردگار! ہمیں ان لوگوں میں لکھ دے جن پر تیرا انعام ہوا، جو تیرے محبوب بندے ہیں۔

اے اللہ! قیامت کے دن ہمارے گناہوں پر، ہمارے عیبوں پر اپنی ستاریت کا پردہ ڈال دینا۔

یا اللہ! مسلمان جہاں کہیں پریشان حال ہیں ان کی پریشانیوں کو دور کر دے۔

  یا اللہ! میرے وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرنا۔
اے رب کریم! مدینے والے آقا کے صدقے میں ہماری جھولیاں مرادوں سے بھردے۔

ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم°
سبحان ربک رب العزت عم یصفون° وسلام علی المرسلین° والحمد للّٰہ رب العالمین°

کامیابی آپ کی منتظر ہے

اگر تم کامیابی و کامرانی چاہتے ہو۔۔۔ زندگی میں خوشحالی چاہتے ہو۔۔۔ امن سکون چاہتے ہو۔۔۔ تو اپنے آپ کو۔۔۔ اپنے رب سے جوڑ لو۔۔۔ جو رب سے جڑ گی...