موٹاپے اور پیٹ کی چربی سے نجات حاصل کریں

موٹاپے سے نجات کیسے ممکن ہے؟؟ وہ کون سی غذائیں مشروبات اور مشقیں ہیں جنہیں اپنا کر ہم ایک خوبصورت سلم اسمارٹ باڈی کے مالک بن سکتے ہیں۔ 

موٹاپا ایک بیماری ہے اور اس بیماری کا سد باب کرنا ضروری ہے۔ 



                                                        پیٹ پھولنے اور گیس کے مسئلے  سے                     نجات کا بہترین ٹوٹکا                                                ۔                                    


بہت زیادہ یا بہت تیزی سے کھانے کے نتیجے میں پیٹ پھول جاتا ہے یا یوں کہہ لیں اندر سے سوج جاتا ہے جس کے نتیجے میں کافی تکلیف کا سامنا ہوتا ہے۔

ویسے یہ جان لیں کہ ہر وقت پیٹ سپاٹ رکھنا نارمل نہیں ہوتا کیونکہ کھانے یا پینے کے بعد غذائیں اور سیال مواد معدے اور آنتوں میں جگہ بناتا ہے، یعنی وہ کچھ پھول جاتے ہیں۔

ویسے تو پیٹ کا بہت زیادہ پھولنا ضروری نہیں، اس بات کی علامت ہو کہ آپ نے کچھ غلط کھالیا ہے تاہم یہ اتنا پھول جائے کہ کپڑے تنگ محسوس ہونے لگے تو اس کی وجہ آپ کی غذا ہی ہوسکتی ہے۔

درحقیقت نظام ہاضمہ کے پاس یہ ایسا ذریعہ ہے جو بتاتا ہے کچھ گڑبڑ ہے، جب ایسا ہوتا ہے تو آپ کو قبض، گیس یا درد کی شکایت ہوسکتی ہے۔


                                                           جب ایسا ہو تو کیا کرنا چاہئے؟


 کیا ایک یا 2 درد کش گولیاں کھا کر دن گزرنے کا انتظار کریں یا کچھ گھریلو ٹوٹکوں کو آزمائیں جو موثر بھی ثابت ہوسکتے ہیں؟


اگر آپ کو اس مسئلے کا سامنا ہے تو گھریلو ٹوٹکوں سے مسئلہ پوری طرح تو حل نہیں ہوتا مگر کافی ریلیف ضرور مل جاتا ہے۔

آپ کے کچن میں ہی ایک چیز ایسی موجود ہوگی جس کا استعمال آسان ہونے کے ساتھ فوری اثر کرتا ہے اور اس کے ساتھ بس ایک کپ پانی کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔


ویسے تو بہترین حل یہ ہے کہ کھانا آرام سے کھائیں اور نوالے کو اچھی طرح چبائیں۔


کیا آپ توند یا پیٹ نکلنے سے پریشان ہیں اور اضافی جسمانی وزن سے نجات پانا چاہتے ہیں؟


تو جب بھی کھانا کھائیں تو ہر کچن میں موجود ایک چیز کو چٹکی یا کچھ مقدار میں ضرور کھالیں اور وہ ہے سونف۔


سونف ایسی چیز ہے جو اکثر ماﺅتھ فریشنر کے لیے کھائی جاتی ہے اور لگ بھگ پاکستان میں ہر گھر میں ہی ہوتی ہے۔




اسے کھانوں اور مختلف اشیا میں ذائقہ بڑھانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے جبکہ یہ معدے کی تیزابیت اور نظام ہاضمہ کے لیے بھی بہترین سمجھی جاتی ہے، مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ موٹاپے یا توند سے نجات کے لیے بھی فائدہ مند ہے؟


درحقیقت صحت مند نظام ہاضمہ صحت مند میٹابولزم کی کنجی بھی ہوتا ہے جو کہ جسمانی وزن میں کمی کی رفتار تیز کرتا ہے۔


ماہرین کے مطابق سونف ہاضمے کے لیے فائدہ مند ہے اور میٹابولک ریٹ بہتر ہوتا ہے، جب میٹابولک ریٹ بہتر ہوتا ہے تو معدے کی صفائی جلد ہوتی ہے جبکہ گیس، تیزابیت اور پیٹ میں درد وغیرہ کے مسائل کا سامنا نہیں ہوتا۔


سونف کو گرم پانی میں شامل کرنا یا رات بھر پانی میں بھگوئے رکھ کر نہار منہ پی لینا موٹاپے سے نجات میں اس وقت مدد دیتا ہے جب آپ اسے استعمال کرنا معمول بنالیں۔


سونف کا پانی بے وقت بھوک کی روک تھام کرتا ہے، سونف میں موجود غذائی فائبر بے وقت بھوک سے بچاتی ہے۔


تاہم موٹاپے سے نجات کے لیے اس نسخے کے ساتھ ساتھ صحت مند طرز زندگی کو اپنانا بھی ضروری ہوتا ہے جیسے صحت بخش غذا کا استعمال، جسمانی سرگرمیاں اور دیگر۔


 سونف اور پانی پیٹ پھولنے اور گیس کے مسئلے سے نجات دلانے میں مدد دے سکتے ہیں۔


اس مشروب کو بنانے کے لیے آدھا یا ایک چائے چمچ سونف، ایک کپ پانی اور شہد درکار ہوگا۔


اسے بنانے کے لیے سونف کو پیس لیں اور پھر اس سفوف کو ایک گپ گرم پانی میں شامل کرکے 5 سے 10 منٹ کے لیے چھوڑ دیں، اس کے بعد چمچ سے مکس کریں اور حسب ذائقہ شہد شامل کردیں۔

اس مشروب کا روزانہ استعمال کریں، اگر مشروب پسند نہیں تو آدھا چائے کا چمچ سونف روزانہ کھانا بھی اس مسئلے سے نجات میں مدد دے سکتا ہے۔


سونف نظام ہاضمہ کے لیے بہت موثر ہوتی ہے جس میں موجود اجزا جراثیم کش خصوصیات رکھتے ہیں جو گیس اور پیٹ پھولنے کے مسئلے سے نجات دلانے کے لیے اسے مفید بناتے ہیں۔


 

                                       ** معدے میں تیزابیت کا علاج*

                                             **  سونف کے ذریعے**


سونف وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتی ہے اور یہ کھانے کو جلد ہضم ہونے میں مدد دینے کے علاوہ میٹابولزم کو بہتر کرتی ہے، جس سے بے وقت بھوک نہیں لگتی اور غذائی اجزاءزیادہ بہتر طریقے سے جسم کا حصہ بنتے ہیں۔


اور ہاں یہ ان لوگوں کے لیے بھی مفید ہے جو اکثر قبض کا شکار رہتے ہیں۔


اس کے مزید فوائد درج ذیل ہیں۔


                                           **اچھی نیند میں مددگار**


دماغ میں ایک ہارمون میلاٹونین اچھی نیند میں مدد دیتا ہے اور سونف کے پانی کا استعمال اس ہارمون بننے کی مقدار بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق اچھی نیند جسمانی وزن میں کمی اور صحت مند وزن برقرار رکھنے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔


                                               **میٹابولزم بہتر کرے**


میٹابولزم وہ جسمانی فعل ہے جو کہ غذا سے حاصل ہونے والی توانائی کو خلیات کے لیے استعمال کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس عمل کو بہتر کرنا اور تیز کرنے سے جو کیلوریز ہم استعمال کرتے ہیں، وہ جلد جلتی ہیں، جس سے جسمانی توانائی کے ساتھ ساتھ چربی بھی گھلتی ہے۔ سونف کا پانی میٹابولزم کو تیز کرتا ہے، خصوصاً جب نہار منہ استعمال کیا جائے۔ 

                                             ** بھوک کو قابو میں رکھے**

سونف کا پانی بے وقت بھوک کی روک تھام کرتا ہے، سونف میں موجود غذائی فائبر بے وقت بھوک سے بچاتی ہے۔ اسی طرح سونف معدے کے مسلز کو ریلیکس کرتی ہے۔


                                        ** سونف کی چائے کے  فوائد **

                              نظام ہاضمہ بہتر کرے


سونف کا پانی جسم میں موجود زہریلے مواد کی صفائی کے لیے بہترین ہوتا ہے اور نظام ہاضمہ کے مسائل دور کرتا ہے، نظام ہاضمہ ٹحیک ہو تو جسمانی وزن میں کمی لانا آسان ہوجاتا ہے۔


                                                        خون کی صفائی


سونف کا پانی خون میں یورک ایسڈ کی باقیات کو صاف کرتا ہے جبکہ جگر میں اضافی چربی کے اجتماع کی روک تھام کرتا ہے۔

اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔


             بڑھی ہوئی توند سے چھٹکارا کیسے حاصل کریں؟؟


آپ اپنی توند سے نجات پاکر اسے سکس پیک میں بدلنا چاہتے ہیں تو اس کا آسان ترین طریقہ سامنے آگیا ہے۔

بس آپ کو ایک ورزش کو عادت بنانا ہوگا اور اس کے لیے محض اپنے قیمتی وقت سے چند منٹ ہی نکالنے ہوں گے۔

درحقیقت یہ ورزش بہت کم عرصے میں پیٹ کی نکلی ہوئی چربی کو گھلا کر سکس پیک بناسکتی ہے مگر یہ جان لیں کہ یہ اتنی آسان بھی نہیں۔

       اور یہ ورزش ہے ایل سِٹ (L-S)


اسے پیٹ کے مسلز کے لیے چند مشکل ترین ورزشوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے مگر یہ توند کو سپاٹ کرنے کے لیے انتہائی موثر ہے جبکہ سکس پیک بونس میں بن جاتے ہیں۔


اس ورزش کے لیے پیٹ کی مضبوطی ہی درکار نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے زیریں جسم کو پوری طرح استعمال کرنا ہوتا ہے مگر اس کے طریقہ کار کو کچھ بدل کر آپ بھی اسے اپنے معمولات کا حصہ بناسکتے ہیں۔


اس ورزش کو کرنے کے لیے فرش پر بیٹھ جائیں اور ٹانگیں آگے پھیلالیں جبکہ ہاتھ کولہوں کے برابر میں رکھ لیں۔

اس کے بعد رانوں کو سکیڑ کر جوڑ لیں اور اپنے جسم کو ہاتھوں کے بل اوپر کی جانب اٹھائیں۔


اس پوزیشن میں 10 سیکنڈ تک رہنے کی کوشش کریں، جس کے بعد 30 سیکنڈ انتظار کریں، یہ عمل ایک سے 4 بار دہرائیں۔


پڑھنے میں یہ جتنی آسان لگ رہی ہوگی اتنی ہی مشکل ہے کیونکہ زیریں جسم کو اٹھانے کے بعد آپ کو کولہے اگے اور پیچھے حرکت دینی ہے تاکہ پیر کچھ انچ پیچھے سرک جائیں، اس کے لیے پیٹ کے مسلز کو کافی محنت کرنا پڑتی ہے۔


ویسے اگر یہ پوزیشن بہت مشکل ہو تو خطرہ مول نہ لیں بلکہ اسے آسان بنالیں، اسے کسی پول یا کسی اسٹینڈ پر کرنا زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔


اس ورزش کو عادت بنانے کے بعد توند سے نجات کے لیے جم جانے کی ضرورت نہیں ہوتی اور ہاں سکس پیک بنانا بھی ممکن ہوجاتا ہے۔

                              


                               **توند سے نجات کے لئے ستو کا شربت**


اگر آپ توند سے نجات پانا چاہتے ہیں یا پیٹ پھولنے کے مسئلے سے پریشان ہیں تو اس موسم کے فائدہ مند مشروب کو پینا عادت بنالیں۔

ستو سے بننے والا یہ مشروب گرم موسم میں جسم کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جو ڈی ہائیڈریشن سے بچانے کے ساتھ گرمی کے اثرات سے بھی بچاتا ہے۔

ستو ایک قسم کا آٹا ہے جسے مختلف قسم کی گندم یاجو وغیرہ کو آگ پر پکا کر حاصل کیا جاتا ہے۔ اس شربت بنایا جاتا ہے جبکہ کئی اقسام کی دیگر کھانوں میں بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے۔

                                         اس کے فوائد درج ذیل ہیں

                                 ***توند سے نجات***


ستو پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ پروٹین جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے، پروٹین سے مسلز کو بنانے میں مدد ملتی ہے جبکہ یہ پیٹ کو بھی دیر تک بھرے رکھتا ہے، 


اس کے علاوہ ستو میں موجود پروٹین جسمانی وزن میں کمی یا یوں کہہ لیں چربی گھلانے کا بھی کام کرتا ہے، ستو پیٹ پھولنے کے مسئلے کو بھی دور کرتا ہے جبکہ میٹابولزم کو تیز کرتا ہے جس سے جسم کو کیلوریز جلانے میں مدد ملتی ہے

     
            

                    نظام ہاضمہ میں بہتری


خالی پیٹ ستو کا شربت پینا معدے کے مختلف مسائل پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے، اس کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے جو گرم موسم کی شدت کو کم کرتی ہے، جبکہ ستو فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جو قبض کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔

                                             جسمانی توانائی میں اضافہ


ستو میں آئرن موجود ہوتا ہے جو جسم میں خون کے سرخ خلیات کی نشوونما میں مدد دیتا ہے، جس سے جسم کو زیادہ آکسیجن ملتی ہے اور دن بھر جسمانی توانائی برقرار رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔

                             ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کے لیے مفید

ستو میں گلیسمیک انڈیکس بہت کم ہوتا ہے، اسی وجہ سے یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے کافی مفید ہوتا ہے۔ اس کا استعمال معمول بنانا (چینی یا گڑ کے بغیر) بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھتا ہے، اس کے علاوہ ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد کے لیے بھی اس کا شربت مفید ہے۔


                               ستو کا شربت بنانے کا طریقہ

ستو کو شکر (پسا ہوا گڑ) میں مکس کریں اور پھر اسے مکسچر کو ٹھنڈے پانی میں ڈال کر اچھی طرح مکس کریں، اس کے بعد اس میں تھوڑا سا لیموں کا عرق شامل کرکے پی لیں۔

وہ قدرتی مشروب جس کے روزانہ استعمال سے 2 ماہ میں آپ پیٹ کی 50 فیصد چربی بنا کسی ورزش کے پگھلاسکتے ہیں

         
                           ٹماٹر

 موٹاپے کے خاتمے کے لئے  ٹماٹر کے جوس کو وزن میں کمی کے لئے کرشماتی نسخہ قرار دیا گیا ہے. ایک گلاس ٹماٹر کا جوس روزانہ پینے سے آپ کی کمر پر جمع چربی اس تیزی سے غائب ہوگی کہ آپ خود بھی دیکھتے ہی رہ جائیں گے. مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جوس کے ساتھ آپ کو سخت ورزش اور ڈائیٹنگ کی بھی ضرورت نہیں رہیگی۔


                    ** وزن کم کرنے میں سبز چائے مددگار **

موٹاپا کم کرنے کے لیے جسم کے میٹابولزم کو متحرک کرنے میں  سبز چائے مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس میں موجود کیفین اور فیٹی ایسڈ موٹاپے کے خلاف جسم کی کارکردگی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

کھانے کے کم سے کم 20 منٹ بعد ایک کپ سبز چائے پئیں۔ اس میں موجود اجزا جسم سے ناصرف اضافی چربی کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ جسم سے زہریلے مرکبات بھی خارج ہوتے ہیں۔

بز چائے میں کمر کو گھٹانے والے اجزاءموجود ہوتے ہیں اسی لیے یہ پیٹ کی چربی گھلانے کے لیے بہترین مشروب سمجھا جاتا ہے، سبز چائے میں موجود اجزا میٹابولزم کی رفتار بڑھا کر جگر کو چربی گھلانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ طبی رپورٹس کے مطابق روزانہ یہ فوائد حاصل کرنے کے لیے چار سے پانچ کپ سبز چائے کا استعمال ضروری وہتا ہے، تاہم اس میں چینی کو شامل کرنے سے گریز کریں۔

               کیا آپ سبز چائے کے ان چھ مستند فوائد سے واقف ہیں؟

سبز چائے یا گرین ٹی اپنے اندر صحت بخش غذائی اجزا کا ذخیرہ سموئے ہوئے ہے اسی لیے یہ بچوں، بوڑھوں اور مرد و خواتین کے لیے بے حد ضروری ہے۔ سبز چائے بہت سی بیماریوں کو روکنے یا ان کا سد باب کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

ذیل میں ہم گرین ٹی کے ایسے فوائد بتائیں گے جو طبی تحقیقات سے ثابت شدہ ہیں۔

                              ** دماغی صلاحیتوں میں اضافہ**

 سبز چائے توانائی کی سطح مستحکم کرنے کے لیے ایک قابل اعتماد علاج ہے۔ کافی کے برعکس سبز چائے آپ کی ذہنی توانائی میں اضافہ کرتا ہے۔

اس مشروب کے استعمال سے بڑھاپے میں دماغی کمزوری لاحق نہیں ہوتی اور الزائمر جیسے مرض سے بھی بچاؤ ممکن ہے۔  روزانہ کی بنیادوں پر گرین ٹی کا استعمال الزائمر سے بچنے کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔


                               ** وزن کم کرنے میں مددگار **

موٹاپا کم کرنے کے لیے جسم کے میٹابولزم کو متحرک کرنے میں بھی سبز چائے مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس میں موجود کیفین اور فیٹی ایسڈ موٹاپے کے خلاف جسم کی کارکردگی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

کھانے کے کم سے کم 20 منٹ بعد ایک کپ سبز چائے پئیں۔ اس میں موجود اجزا جسم سے ناصرف اضافی چربی کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ جسم سے زہریلے مرکبات بھی خارج ہوتے ہیں۔


                                   ** جسمانی صلاحیتوں میں اضافہ **

بزچائے میں موجود کیفین چربی کو پگھلا کر اسے توانائی میں تبدیل کردیتی ہے جو جسمانی صلاحیتوں میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق سبز چائے کے استعمال سے کام کرنے کی صلاحیت میں 12 فیصد اضافہ ہوجاتا ہے۔

                                        کینسر کی مختلف اقسام سے بچاؤ

محققین کے مطابق سبز چائے میں موجود پولیفینولز نامی جز کینسر کی خلیات کو مارنے اور ان کی پیش قدمی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

سبز چائے کا استعمال کرنے والی خواتین میں علاج کے بعد بریسٹ کینسر کے لوٹنے کا امکان کم ہوتا ہے اور آنتوں کے کینسر کا خطرہ بھی 30 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

                                      جراثیم کش

اگر آپ خدانخواستہ کسی حادثے سے زخمی ہوگئے ہیں تو سبز چائے کے استعمال سے انفیکشن کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ اس سے دانتوں اور جسم میں پیدا ہونے والے جراثیم ختم ہوجاتے ہیں۔


                                 ذیابیطس سے تحفظ

سبز چائے دار چینی ڈال کر بنائی جائے تو ذیابیطیس کو قابون میں رکھتی ہے جو لوگ روزانہ سبز چائے پیتے ہیں انہیں جگر کی بیماریوں بشمول یرقان کا کم خطرہ ہوتا ہے۔

**فائبر سے بھرپور غذاؤں کا استعمال پیٹ کی چربی سے نجات دلاتا ہے**

 فائبر سے بھرپور غذائیں نظام ہاضمہ کے لیے بہترین ہوتی ہیں اور پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرا رکھتی ہیں، جس سے بے وقت کھانے کی عادت سے نجات میں مدد ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موٹاپے سے نجات کے خواہشمند افراد کو فائبر سے بھرپور غذائیں کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔


                                          پپیتا کے فوائد


 پپیتا اینٹی آکسائیڈنٹ سے بھرپور پھل ہے جو کہ جسمانی ورم کے خلاف لڑتا ہے، جسمانی ورم بھی جسمانی وزن میں کمی لانے کی کوششوں میں رکاوٹ ہے۔

                                             ہاضمہ کو بہتر کرتا ہے

 پپیتا نظام ہاضمہ بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ قبض کے خلاف بھی لڑتا ہے، صحت مند معدہ اور نظام ہاضمہ جسمانی وزن میں صحت مند کمی کے لیے ضروری عناصر ہیں۔


پروٹین جذب کرنے میں مددگار ہوتا ہے

 اس پھل میں پائے جانے والے اینٹی آکسائیڈنٹ گوشت کو ہضم کرنے کے ساتھ گوشت میں موجود پروٹین کو جسم میں جذب ہونے میں بھی مدد دیتے ہیں، پروٹین وہ جز ہے جو جسمانی وزن میں مدد دیتا ہے۔

توند سے نجات کے لیے پپیتے کو کیسے کھائیں؟

بہترین نتائج یعنی توند کی اضافی چربی گھلانے کے لیے پپیتے کو ناشتے میں کھانا بہتر ہوتا ہے یا دوپہر اور رات کے کھانے کے دوران کھائیں۔ 


ناشتے میں اس پھل کو کھانا معیاری پروٹین اور کچھ مقدار میں صحت مند فیٹس کے حصول میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح کھانے کے دوران اسے کھانا پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرا رکھتا ہے اور بے وقت ایسی اشیاء کی اشتہا ختم کرتا ہے جو موٹاپے کا باعث بنتی ہیں۔


توندسے چھٹکارہ پانے کے لیے  نو آسان تدابیر**۔            **

پیٹ کی چربی جمع ہو جانے کا نتیجہ "توند" کے نمودار ہونے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس کا خطرناک ترین پہلو یہ ہے کہ یہ مرکزی اعضا مثلا جگر، پتّے اور گردے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ تاہم  بعض سادہ اور آسان طریقوں کو اپنا کر توند سے چھٹکارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔


توند سے نجات حاصل کرنے کا ایک مشہور طریقہ پتوں والی سبزیوں ، اناج ، میوہ جات اور پھلیوں کا بکثرت استعمال ہے۔

توند یا بڑھے ہوئے پیٹ کو کم کرنے کے لیے  مندرجہ ذیل چیزوں کا خیال رکھیں

1

 – وزن کم کرنا

جو شخص بھی جسم پر چربی جمع ہونے کے مسئلے سے دوچار ہو گا اس کا وزن یقینا زیادہ ہو گا جس سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہیے۔ جب یہ انسان اضافی وزن کو کم کرتا ہے تو یہ چیز پورے جسم پر سے چربی کو ختم کرتی ہے جس میں پیٹ پر جمع ہو جانے والی چربی شامل ہے۔


2 

– سیر شدہ چربی کو کم کرنا


توند سے نجات حاصل کرنے کے لیے انسان کو اپنی غذا میں Saturated fat (سیر شدہ چربی) کی مقدار کو کم کرنا چاہیے۔ یہ چربی سرخ گوشت، ناریل کے تیل اور کھجور کے تیل کے علاوہ مکمل چکنائی والی دودھ دہی کی مصنوعات میں پائی جاتی ہے۔ بہتر ہے کہ اس چربی کو پھلوں اور سبزیوں میں پائی جانے والی چکنائی یا مچھلی سے تبدیل کر دیا جائے۔


3 

– ورزش کی باقاعدگی


بے قاعدگی کے ساتھ ایک انسان جتنے گھںٹے بھی پیدل چلے یا ورزش کرے ،،، اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ البتہ باقاعدگی کے ساتھ روزانہ چند منٹ کی ورزش توند سے چھٹکارہ پانے میں مؤثر اور مثبت نتائج سامنے لا سکتی ہے۔


4 

– نیند کا مناسب دورانیہ


روزانہ 5 گھنٹے سے کم یا 8 گھنٹے سے زیادہ نیند لینے کا نتیجہ وزن کی زیادتی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پیٹ پر بھی اضافی چربی آ سکتی ہے۔ سونے کا مناسب ترین دورانیہ 6 سے 8 گھنٹے کے درمیان ہے۔


5 

– سرجری سے دُور رہنا


کاسمیٹک سرجری توند کا کوئی حل پیش نہیں کرتی اس لیے کہ Liposuction کی سرجری پیٹ کی دیوار کے اندر نہیں پہنچ پاتی۔ لہذا حقیقی حل طویل عرصے کے لیے طرز زندگی تبدیل کرنے میں پوشیدہ ہے۔


6 

– تناؤ اور ٹینشن سے دُور رہنا


تناؤ اور ٹینشن انسان کے مزید چکنائی اور میٹھی اشیا کھانے کا سبب بن سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اس سے کارٹیزول ہارمون بھی متحرک ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں پیٹ پر چربی جمع ہو سکتی ہے۔ ذہنی یا اعصابی تناؤ کے سبب نیند کا اور ورزش کا دورانیہ معمول سے کم ہو جاتا ہے۔ ایسے میں ہلکی پھلکی سرگرمیوں کے ذریعے تناؤ اور پیٹ پر چربی جمع ہونے سے چھٹکارہ پایا جا سکتا ہے۔


7

 – پانی کی مناسب مقدار


سوفٹ اور سوڈا ڈرنکس لیتے ہوئے حراروں کی اُس کثیر تعداد کو یاد کر لینا چاہیے جو ان کے ساتھ جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ لہذا بہتر ہے کہ ان مشروبات کو سادے پانی سے بدل دیا جائے۔


8

 – سگریٹ نوشی سے پرہیز


پیٹ پر جمع ہونے والی چربی یا توند سے نجات کے لیے سگریٹ نوشی چھوڑ دینا چاہیے۔


9

 – کمر کی پیمائش اور وزن


انسان کو اپنے وزن اور توند کو بڑھنے سے بچانے کے لیے اپنی کمر کی پیمائش کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔ لہذا خواتین میں کمر کی اوسط پیمائش 35 انچ اور مردوں میں 40 انچ سے زیادہ نہیں بڑھنا چاہیے۔ مزید برآں کمر کی مثالی پیمائش والوں کو مناسب وزن برقرار رکھنا چاہیے۔ اس لیے کہ محض کمر کی پیمائش یہ جاننے کے لیے کافی نہیں ہے کہ پیٹ پر چربی جمع ہو رہی ہے یا نہیں۔


پروٹین کا استعمال بڑھائیں


پروٹین کا استعمال زیادہ جبکہ کاربوہائیڈریٹس سے دوری بغیر سخت ورزش کے توند سے نجات کا تیز ترین نسخہ ہے، پروٹین بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے اور انسولین کی سطح کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، انسولین وہ ہارمون ہے جو جسم کو چربی خاص طور پر پیٹ اور کمر کے ارگرد جمع کرنے کا سگنل بھیجتا ہے۔ سفید ڈبل روٹی کو چھوڑ کر اجناس، سیزن کے پھل، جڑوں والی سبزیاں وغیرہ کا استعمال معمول بنالیں۔


ناریل کے تیل کو آزمائی

ناریل کا تیل میڈیم چین triglycerides سے بنتا ہے جبکہ سبزیوں اور بیجوں کے تیل میں لانگ چین triglycerides ہوتے ہیں، طبی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ناریل کے تیل کا میڈیم چین سے بننا متعدد فوائد کا حامل ہوتا ہے، کیونکہ یہ آسانی سے ہضم ہوجاتا ہے اور بہت تیزی سے غذا کو توانائی میں بدل دیتا ہے اور وہ چربی کی شکل میں جسم میں ذخیرہ نہیں ہوتی۔


چینی سے دوری

چینی کا استعمال پیٹ اور کمر کے گرد چربی کے ذخیرے کی بنیادی وجہ بنتا ہے، چینی میں شامل گلوکوز اور دیگر اجزاءدوران خون میں تیزی سے جذب ہوکر توانائی میں بدل جاتے ہیں، تاہم مٹھاس کا بہت زیادہ استعمال اس توانائی کو چربی کی شکل میں بدل کر پیٹ کے گرد ذخیرہ کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔ اسی طرح بہت زیادہ چینی بلڈ شوگر کو بڑھاتی ہے جس سے انسولین کی مزاحمت کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اگر تو آپ توند سے نجات چاہتے ہیں تو کچھ دن کے لیے چینی سے منہ موڑ لیں یا بہت کم کردیں اور اس کی جگہ تازہ پھل، شہد، کھجور اور ناریل وغیرہ کو اپنالیں۔

فائبر کو بھی خوراک کا حصہ بنائیں

غذا میں زیادہ فائبر خاص طور پر جو، دالوں، سبزیوں اور پھلوں میں موجود فائبر توند میں اکھٹا ہونے والی چربی کو گھلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ فائبر بے وقت کی بھوک کا احساس دور رکھتا ہے جبکہ معدے کے نظام کو درست رکھتا ہے، اسی طرح یہ غذائی جز چربی کے جذب ہونے کے عمل کو کم کردیتا ہے جس سے توند نکلنے کا خطرہ نہیں ہوتا۔

       

              تناﺅ میں کمی لائیں

شدید تناﺅ بھی توند نکلنے کا باعث بنتا ہے، زیادہ دورانیے تک تناﺅ کے نتیجے میں ایک ہارمون کورٹیسول اشتہا بڑھاتا ہے اور انسان زیادہ کھانے لگتا ہے جبکہ میٹابولزم سست ہوجاتا ہے جس سے پیٹ کے ارگرد چربی جمع ہونے لگتی ہے۔مراقبہ، گہری سانسیں لینا یا نہانا، یہ سب روزمرہ کے تناﺅ میں کمی لانے سمیت توند سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

سیڑھیاں چڑھنا عادت بنائیں

سست طرز زندگی متعدد امراض اور موٹاپے کا باعث بنتا ہے، آپ ورزش نہیں کرتے تو کوئی بات نہیں مگر سیڑھیاں چڑھنا، تیز چہل قدمی اور فون پر بات کرتے ہوئے بھی تیز چلنے جیسی عادتیں اپنا کر آپ توند کو تیزی سے کم کرسکتے ہیں۔

سونے کا وقت طے کریں


توند میں ورزش کے بغیر کمی لانے کا ایک حیران کن طریقہ زیادہ نیند ہے، طبی رپورٹس کے مطابق رات کو چھ سے آٹھ گھنٹے کی نیند انسولین کی سطح کو متوازن رکھنے اور تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمون کو بڑھنے نہیں دیتی، مکمل آرام سے جسم کے پاس دن بھر کے کاموں کے لیے مناسب مقدار میں کیلوریز بھی دستیاب ہوتی ہیں۔ 

گرم مصالح

گھنے جنگلات سے عالمی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں دو تہائی کمی ممکن

ہلدی ورم کش اجزاءموجود ہوتے ہیں، اس کا استعمال جسمانی میٹابولزم کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے اور توند میں کمی لاتا ہے۔


                                               پانی کا زیادہ استعمال

روزانہ آٹھ گلاس پانی کا استعمال نظام ہضم کو بہتر، پیٹ پھولنے کا خطرہ کم اور میٹابولزم کے افعال کو درست رکھتا ہے، اپنے میٹھے مشروبات کو پانی سے بدل کر آپ مجموعی وزن میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ توند کو بھی اندر کرسکتے ہیں۔



***********************************************************************

چہرے کی کلینزنگ کیسے کریں


                                                   شگفتہ شاداب چہرہ کیسے ممکن   ہے؟؟

  ہر عورت اور لڑکی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا چہرہ نکھرا ہوا اور داغ دھبوں سے پاک ہو

خوبصورت اور صحت مند جلد حسن کی سب سے نمایاں علامت ہے۔جلد کو خوبصورت اور شاداب بنانے کے لیے

گھر سے باہر جا کر کاسمیٹکس خریدنے کی ضرورت نہیں ہے۔کچن میں ایسا خزانہ چھپا ہوا ہے جو نکھری        اورصحت مند جلد کا راز بن سکتا ہے۔


                                                    **چہرے کی کلینزنگ کیسے کریں**


1

۔ چہرے کی کلینزنگ کیلئے ایک چمچ ناریل کے تیل میں ایک چمچ شہد اور ایک چمچ لیموں کا رس ملا لیں۔ پھر چہرے پر لگا کر 15 منٹ تک ہلکے ہاتھوں سے تھپتھپائیں۔ روئی کی مدد سے صاف کریں۔۔۔ پھر 15 منٹ کھیرے کے رس سے مساج کریں۔ کلینزنگ کے بعد ماسک ضرور لگائیں۔

ماسک بنانے کے لیے۔۔۔۔۔ ایک چمچ بیسن، ایک چمچ میدہ، دو چمچ ٹماٹر کا جوس، ایک چمچ ایلو ویرا جیل لیکر مکس کریں اور 25 منٹ تک چہرے پر لگائیں اس کے بعد ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھو لیں۔


2 

۔ کسی بھی ملٹی ایکشن کلینزر سے 5 منٹ تک مساج کریں۔ پھر 3 منٹ اسکرب کریں اسکرب کیلئے۔۔۔ ایک چمچ براؤن شوگر، چند قطرے لیموں، دو قطرے زیتون تیل، دو قطرے ناریل تیل۔مکس کرکے اسکرب تیار کرلیں۔ اسکرب کو چہرے پر ملنا ہوتا ہے پھر ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھو کر ماسک لگائیں۔

                                                          ماسک بنانے کے لیے۔۔۔۔

دو چمچ ملتانی مٹی، دو چمچ بیسن، ایک چمچ عرق گلاب، ایک چٹکی ہلدی، ایک چمچ شہد، ایک چمچ گلیسرین، چند قطرے لیموں مکسچر بنائیں اور چہرے پر 30 منٹ کے لئے لگائیں ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھو کر زیتون کا تیل لگائیں۔

** اپنی خوراک میں ہری سبزیوں کا استعمال کریں ان میں آئرن اور وٹامن ای بہت زیادہ مقدار میں موجود ہوتا ہے ان میں سلاد کھیرا، ٹماٹر، پالک گوبھی چقندر بہت اہم ہیں۔۔ یہ بالوں آنکھوں اور جلد کےلئے بہت ہی زیادہ مفید ہیں۔ ** فائبر والی غذائیں استعمال کریں یہ موٹاپے کو دور کرتی ہیں۔ فائبر والی غذاؤں میں چقندر، ناریل، کیلا، نارنجی، لیموں اہم ہیں۔



** جھائیاں دور کرنے کے لیے**


                                             سفید تلوں کو پیس لیں۔

ان کو بھینس کے دودھ میں ملا کر رکھ لیں۔اس پیسٹ کو روزرات کو سوتے وقت چہرے پر لگائیں اورمساج کریں۔صبح اٹھ کر کسی اچھے صابن سے منہ دھولیں۔


** پالک، چقندر، کھجور کو کچا کھانے سے جھائیاں دور ہوتی ہیں۔


** کھیرے میں نمکیات اور پانی وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے جو کہ چہرے پر قدرتی نکھار لاتا ہے۔


** متوازن خوراک کے استعمال سے انسانی نظام کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ آئرن سپلیمنٹ کا استعمال کریں چقندر کا رس پیئیں کونکہ چقندر خون بنانے والی مشین ہے۔


** وٹامن ای۔۔۔۔ 

antioxidant

  ہوتا ہے وٹامن ای سے اعصابی نظام بہتر ہوتا ہے یہ پٹھوں اور مسلز کے سکڑاؤ کو کم کرتا ہے کھنچ 

stress

 یہ انسان کے لئے ہر حالت میں نقصان دہ ہے اس سے aging  شروع ہوتی ہے چہرے پر جھریاں پڑتی ہیں

 بال سفید ہونے لگتے ہیں نروس سسٹم کو نقصان پہنچتا ہے اور یہ سب وٹامن ای کی کمی سے ہوتا ہے اسلئے اپنی روزانہ کی خوراک میں وٹامن ای کی مقدار پوری کریں پھلوں اور سبزیوں سے پوری کریں یا پھر وٹامن ای سپلیمنٹ کا استعمال کریں۔  خون کی کمی وٹامن ای والی غذاؤں سے پوری کریں۔ وٹامن ای دل کے امراض کو روکتا ہے انہیں کنٹرول کرتا ہے۔ وٹامن اے، سی اور ای اپنی غذا میں ہمیشہ شامل رکھیں۔ وٹامن ای آنکھوں کی بہتر کارکردگی کے لئے بھی نہایت ضروری ہے۔ جب جسم میں خون کی کمی ہوتی ہے تو ذہنی capacity پر اثر پڑتا ہے۔ ایسی غذائیں استعمال کریں جن میں آئرن بہت زیادہ مقدار میں موجود ہو ان میں پالک، چقندر، گوبھی، کلیجی، کھجور، مالٹا، سلاد شامل ہیں۔ جنہیں بہت زیادہ وٹامن ای کی کمی ہو وہ لوگ گوشت ضرور کھائیں۔ 


** کیپسول جسم میں جلدی جذب ہوتا ہے اس لیے قدرتی غذاؤں کے ساتھ اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے کیپسول کا استعمال کریں۔


**فطرت سے قریب رہیں فطرت میں زندگی ہے۔ دہی کا استعمال کریں دہی میں وٹامنز، کیلشیم موجود ہوتے ہیں جو صحت مند زندگی کیلئے ضروری ہیں۔ دہی کمزوری دور کرنے میں ٹانک کا کردار ادا کرتا ہے۔ دہی کمزوری کو دور کرتا ہے تسکین دیتا ہے۔دہی چہرے اور سر کی جلد کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ جو لوگ بہت زیادہ کمزور ہو اور انہیں کوئی غذا نہ لگتی ہو جسم صحت مند نہ ہوتا ہو وہ لوگ دہی کا استعمال کریں ایک پیالی دہی روزانہ کھائیں اور اس میں کسی بھی چیز کی ملاوٹ نہ کریں خالص دہی چمچ کی مدد سے روزانہ ایک پیالی کھالیں۔ جسم بھرنے لگے گا اور چہرہ بھی شگفتہ ہو جائے گا۔ دہی میں غذائیت ہے۔

دہی غذائیت سے بھرپور خوراک ہے جو سر اور چہرے کی جلد کی حفاظت کرتا ہے اور جلد کےلئے بہترین ٹانک ہے۔


** جو لوگ کمزور ہوں جن کا کھانا جزو بدن نہ بنتا ہو انہیں چاہیے کہ وہ روزانہ ایک پیالی دہی بغیر کچھ ملائے کھائیں چند دنوں میں ہی جسم بھرنا شروع ہو جائے گا۔ جسم صحت مند ہو جائے گا۔ دہی میں ملٹی وٹامنز ہوتے ہیں جو قوت مدافعت کو بڑھاتے ہیں۔ جو لوگ اپنی زندگی میں دودھ، دہی، پھل کھجور وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں ان کی صحت قابل رشک ہوتی ہے اور وہ ایک بھرپور زندگی جیتے ہیں۔ فطرت کی غذائیں انسان کو بیماریوں سے دور کردیتی ہیں۔ ذہن تندرست رہتا ہے زندگی آسان ہوجاتی ہے۔ غذائیں صحت پر اثر انداز ہوتی ہیں اور بڑی بڑی بیماریوں سے بچا لیتی ہیں۔ تازہ دہی استعمال کریں۔ دہی اندرونی نظام کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور اس کے استعمال سے جلد، بالوں ناخن صحت مند ہوجاتے ہیں۔


**  ایکنی ماسک**


1. انڈے کی سفیدی میں لیموں کے چند قطرے ملا کر 20 منٹ لگانے سے ایکنی ختم ہو جائے گی اور جلد صاف اور ٹائٹ ہو جائے گی۔ 


**ایکنی فیشل**


 گلاب پاؤڈر ایک چمچ، لیموں کے پھول ایک چمچ، ہلدی ایک چوتھائی چمچ، بیسن ایک چمچ، ان تمام چیزوں کو عرق گلاب میں بھگو کر 10 منٹ تک گول گول دائرے بناتے ہوئے لگائیں اور پھر گول گول دائرے بناتے ہوئے 10 منٹ بعد اتار لیں۔ ایکنی ختم ہو جائے گی اور اسکن فریش ہو جائے گی۔ روزانہ اپنے چہرے پر یہ ٹریٹمنٹ کریں۔ بہت فائدے مند ہے۔ ایک ماہ مسلسل اس پر عمل کرنے سے چہرہ گلاب کی طرح کھل جائے گا۔ کسی میک اپ کی بھی ضرورت نہیں رہیگی۔ 



** نائٹ کریم **


چار عدد بادام لے کر ان کو چھیل لیں۔ایک اخروٹ کی گری لے لیں۔چند دانے مونگ پھلی لے کر ان سب کا باریک آمیزہ تیار کرلیں۔

اب اس میں چار چمچ بالائی،دو چمچ کھیرے کا رس،ایک چمچ عرق گلاب شامل کرلیں۔ان سب کو اچھی طرح مکس کریں اور ایک بوتل میں رکھ لیں۔ روزانہ رات کو سونے سے قبل اس سے چہرے اور گردن پر مساج کریں۔آنکھوں کے چاروں اطراف بھی لگائیں۔اچھی طرح جلد میں جذب کریں پھر آدھے گھنٹے بعد ٹشو پیپر کی مدد سے نرمی سے صاف کرلیں۔




                          ** دھوپ میں جھلسی جلد کو کیسے بحال کیا جائے ؟؟**


گرمیوں کے موسم میں جلد کا جھلس جانا عام بات ہے۔ باہر نکلنے والے افراد کو خاص طور پر اس مسئلہ کا سامنا ہوتا ہے۔ جھلسی ہوئی جلد ایک دو دن تک تکلیف بھی دیتی ہے اس کے بعد اس کا رنگ گہرا ہوجاتا ہے۔


اب جبکہ ملک بھر میں موسم گرما اپنے عروج پر ہے، ایسے میں اس موسم میں جھلس جانے والی جلد سے مندرجہ ذیل اجزا سے نجات پائی جاسکتی ہے۔


                                                                         ** دہی **


دہی کے ذریعے جھلسی ہوئی جلد سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ ایک کپ دہی میں کھیرا، لیموں اور ٹماٹر کا رس شامل کریں۔ اب اس میں تھوڑا بیسن شامل کرلیں۔

اب اس ماسک کو چہرے یا جہاں جلد جھلسی ہے وہاں لگائیں اور 30 منٹ کے لیے چھوڑ دیں۔ بعد میں نیم گرم پانی سے چہرے کو صاف کرلیں۔


                                                                     ** ایلو ویرا **

ایلو ویرا جھلسی ہوئی جلد سے نجات کا بہترین طریقہ ہے۔ سونے سے پہلے ایلو ویرا کو متاثرہ جلد پر لگائیں اور صبح اٹھ کے اچھی طرح دھو لیں۔ جب تک جلن ختم نہ ہو ایلو ویرا کا استعمال جاری رکھیں۔


                                                                     ** آلو **


آلو بھی جلن سے نجات کے لیے بے حد مفید ہے۔ آلو میں وٹامن سی موجود ہوتا ہے اور وٹامن سی جلد کے لیے بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔ آلو کو قدرتی فیشل بھی کہا جاتا ہے۔

آلوؤں کو چھیل کے ٹکڑوں میں کاٹ لیں اور بلینڈر میں پیس لیں۔ اب اس پیسٹ کو متاثرہ جلد پر 30 منٹ تک لگائیں۔ اس کے بعد ٹھنڈے پانی سے دھولیں۔ بہترین نتائج کے لیے اس پیسٹ میں لیموں بھی شامل کرلیں۔


                                                                     ** بیسن **



بیسن سن برن ختم کرنے کا بہترین نسخہ ہے۔ بیسن کے ذریعے سے جلد کے مردہ خلیہ نکل جاتے ہیں اور اس سے آپ کی جلد تروتازہ ہوجاتی ہے۔

بیسن کو سادے پانی میں حل کریں اور گاڑھا سا پیسٹ بنا کے سن برن والے حصے پر لگالیں۔ 20 منٹ بعد اس پیسٹ کو صاف کرلیں۔ یہ عمل ہفتے میں 2 بار کرنے سے نہ صرف سن برن ختم ہوگا بلکہ آپ کا رنگ بھی صاف ہوجائے گا۔


خوبصورت چہرہ نرم وملائم شگفتہ جلد اور پرکشش لمبے گھنے سیاہ بال ہر عورت کی فطری خواہش ہوتی ہے ۔چاہے وہ قدیم زمانے کی عورت ہو یا آج کے دور کی عورت۔دنیا کے تمام ممالک کی خواتین کی خوبصورتی کا راز ان کے چند پرانے نسخوں میں بھی پنہاں ہوتا ہے ،جسے وہ اپنی جلد کو نکھارنے اور جواں سال نظر آنے کے لیے باقاعدگی سے استعمال کرتی ہیں ۔مختلف ثقافتوں میں یہ قدیم اور مفید نسخے نسل درنسل چلے آرہے ہیں۔


وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مقبولیت اور استعمال میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔


** جاپانی خواتین کے حسن کا راز **


جاپان کی خواتین اپنی طویل عمر،خوبصورت ،نرم وملائم گوری جلد اور سیاہ بالوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔اگر چہ جاپان کا شمارجدید ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے تاہم اب بھی بہت سی جاپانی خواتین اپنی خوبصورتی کو بر قرار رکھنے کے لیے صدیوں پرانے نسخوں کا سہارا لیتی ہیں ۔


سبز چائے کا استعمال جاپانی خواتین میں عام ہے جو ناصرف ان کی جلد کو صاف شفاف اور نرم ملائم بناتی ہے بلکہ اسے لمبی اور صحت مندزندگی کے لیے بھی بہترین تصور کیا جاتا ہے ۔

وٹامن سی کا استعمال جاپانی خواتین کی جلد کو گورارکھتا ہے ۔وٹامن سی کے حصول کے لیے جاپان میں سنگترہ کا بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے ۔سنگترہ جلد کو Deoxicilizeکرنے اور جلد کی سیاہی کودور کرنے میں مدد دیتا ہے ۔

اس کے علاوہ جاپانی خواتینAzukجسے عرف عام میں لال لوبیا کہا جاتا ہے کثرت سے استعمال کرتی ہیں جسے خوبصورتی کا ایک اچھا ذریعہ سمجھا جاتاہے۔

لال لوبیا کے پیسٹ سے چہرے کو نرمی سے رگڑ ا جاتا ہے یہ عمل چہرے کو نرم اور ملائم اور داغ دھبوں سے پاک رکھتا ہے ۔


جاپانی خواتین اپنے چہرے کے لیے کسی بھی مصنوعی آئل کے بجائے Signature Oilیعنی خالص پودوں ،خشک میوہ جات جیسے کہ اخروٹ وغیرہ ،بیجوں اور پھلوں سے نکالے گئے تیل کے استعمال کو ترجیح دیتی ہیں۔


جاپانی خواتین کی خوبصورتی کا ایک اور راز Komenukarice Branچاولوں کی بھوسی ہے یہ جاپانی خواتین کا صدیوں پرانا اور مقبول نسخہ ہے ،اسے فیشل سوپ کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے۔اس میں کئی ضروری اجزاء جیسے کی فیٹی ایسڈز وٹامن بی کمپلیکس TocopherostاورTocotrienolsشامل ہوتے ہیں جو جلد کی جھریوں اور سیاہ حلقوں کو ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔یہ نسخہ جلد سے گرد وغبار کو ہٹانے اور ایکسنولی ایٹ کرنے کے لیے بہترین سمجھاجاتا ہے ۔

یہ نسخہ جاپانی عورتوں کا Common Senseکہلاتا ہے جس کے لیے ایک چمچ چاولوں کی بھوسی کو گرم پانی میں شامل کرکے پورے چہرے پر لگاتے ہیں اور پھر آہستگی سے رگڑ کر منہ دھولیتے ہیں۔


** اطالوی خواتین کے حسن کے راز **


اکثر اٹالین خواتین اپنی جلد کی قدرتی چمک دمک کو بر قرار رکھنے کے لیے گھریلو نسخوں کا استعمال کرتی ہیں ۔اٹالین خواتین اپنے بالوں کو صحت مند اور چمکدار بنانے کے لیے دہی اور زیتون کے تیل کے مکسچر کو کنڈیشنرز کے طور پر استعمال کرتی ہیں ۔

دہی میں شامل پروٹین نہایت نرمی سے قدرتی غذائیت بخشاہے۔

ایک کپ سادہ دہی میں ایک چائے کے چمچ زیتون کے تیل کو مکس کرکے دھلے ہوئے گیلے بالوں پر لگایا جاتا ہے اور پانچ منٹ لگا رہنے کے بعد بالوں کو ٹھنڈے پانی سے دھولیتے ہیں۔


  ** فرانسیسی خواتین کے حسن کا راز **


فرانسینی خواتین بھی اپنی جلدکو پر کشش بنانے کے لیے قدرتی اور نہایت ہی سستا طریقہ استعمال کرتی ہیں۔

چیری اور انار کے بیجوں کو پیس کر ماسک کی طرح چہرے پر لگایا جاتا ہے اور تقریباً چھ منٹ کے بعد منہ کو دھولیا جاتاہے۔

 ** روسی خواتین کے حسن کا راز **


روسی خواتین میں جلد کی خوبصورتی اور نرمی کو بر قرار رکھنے کے لیے کافی اسکرب مقبول ہے ۔ان خواتین کی پرکشش جلد کا ایک راز باقاعدہ مساج بھی ہے جو جلد کو صاف شفاف اور نرم وملائم رکھنے میں مدد دیتا ہے ۔


روسی خواتین اپنے جسم کو کافی اسکرب سے رگڑتی ہیں جس سے جلد کے خلیے مضبوط ہوتے ہیں اور جلد پر کشش اور دلکش دکھائی دینے لگتی ہے ۔روسی خواتین اس نسخے کو Saunaیعنی بھاپ کا غسل لیتے وقت استعمال کرتی ہیں جو جلد کو بہترین طریقے سے ایکسنولی ایٹ کے کھال سے مردہ اجزاء کو اتار دیتا ہے جس سے جلد نرم اور تروتازہ نظر آتی ہے ۔آج کل یہ نسخہ دنیا بھر میں مقبول ہورہا ہے۔


** مصری۔۔۔خواتین کے حسن کا راز **


قدیم مصر اپنی شاندار خوبصورتی،مسحورکن پر فیوم ،خوبصورت کپڑوں ،جاذب نظر اسٹائل کی وجہ سے جانا جاتا ہے لیکن قدرتی حسن اور خوبصورتی کے حوالے سے مصر کا نام سنتے ہی پہلی صدی عیسوی کی خوبصورتی کا افسانوی پیکر قلوپطرہ کانام ذہن میں آتا ہے ۔قلو پطرہ کی خوبصورتی کا راز دودھ اور شہد کا استعمال تھا ،جس سے وہ غسل لیا کرتی تھی۔

یہ دونوں قدرتی اجزا جلد کو نرم و ملائم اور پر کشش بنانے کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔ آج کل مصری خواتین اپنی جلد کو پر کشش بنانے کے لیے ایک چمچ باداموں کے پاؤڈر کو دو چمچ دودھ میں مکس کرکے اپنے چہرے پر استعمال کرتی ہیں جس سے جلد لچکدار،نرم وملائم اور تروتازہ رہتی ہے۔

  ** انڈین خواتین کے حسن کا راز **


انڈین خواتین بھی اپنی خوبصورتی میں نکھار پیدا کرنے کے لیے صدیوں پرانے نسخوں کو ترجیح دیتی ہیں ۔

ایوروویدک جو کہ قدیم طبی نظام ہے قدرتی حسن کو بر قرارکھنے کے لیے مختلف قسم کے تیل جیسے کہ صندل گلاب ،خشخاش وغیرہ کو تجویز کرتا ہے اس کے علاوہ صندل کا فیس پیک اپنی حیرت انگیز خصوصیات کی بنا پر انڈیا میں بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے ۔

 انڈین خواتین اپنے لمبے گھنے بالوں کی وجہ سے مشہور ہیں ،جنہیں خوبصورت بنانے کے لیے خواتین ناریل کے تیل کا بکثرت سے استعمال کرتی ہیں۔

ناریل کے تیل کو نیم گرم کرکے سر کی کھوپڑی پر مساج کیا جاتا ہے اور پھر دوسری صبح بالوں کو دھو لیا جاتا ہے ۔اس سے ناصرف بالوں کی نشوونما میں اضافہ ہوتا بلکہ روکھے ،بے رونق اور پتلے بال بھی مضبوط اور گھنے ہوجاتے ہیں۔

***************************


** موسم گرما میں شاداب چہرہ، کیسے؟** 


چہرے کی جلد ہر موسم میں مختلف تبدیلیوں سے گزرتی ہے۔ اس کی خوب صورتی پر گرمی کا موسم بہت زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔اس موسم میں چہرے کی نرم وملائم جلد کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوجاتا ہے۔ 

چہرے کا حسن اور تازگی برقرار رکھنے کے لیے بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس موسم میں خواتین کی جلد اور بالخصوص چہرے کی جلد کھردری ہوکر اپنی چمک اور کشش کھو بیٹھتی ہے، کیوں کہ چہرے کی نازک جلد گرمی کی سختی برداشت کرنے میں ناکام رہتی ہے اور جلد ہی اس کے سامنے ہمت ہار جاتی ہے۔


چہرے کی اجلی رنگت برقرار رکھنے کے لیے مختلف بیوٹی ٹپس کا استعمال کرتے رہنا بہت ضروری ہے۔ ہر گھر میں ہلدی اور لیموں تو عام مل جاتے ہیں۔ 

ان کے مکسچر کا استعمال بہت مفید ہے۔ ایک تو یہ چہرے کی رنگت کو نکھارتا ہے اور دوسرے اس کے مساج سے تھریڈنگ کی بھی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ 


بیسن بھی ہر گھر میں موجود ہوتا ہے، اس کو آٹے میں ملا کر جلد پر لگانا بہت کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ یہ جلد کی کلینزنگ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔۔

چہرہ ہی تو شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے اور یہ جسمانی حسن اور خوب صورتی کی بھرپور عکاسی بھی کرتا ہے۔ وہ خواتین جو اپنے چہرے پر موسم کی تبدیلیوں کی وجہ سے توجہ نہیں دے پاتیں، وہ اپنی عمر سے کئی گنا بڑی دکھائی دیتی ہیں اوراس کے ساتھ ساتھ اپنی قدرتی کشش سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ ایسی بہنوں اور خواتین کا چہرہ نہ صرف بالوں اور روئیں سے بھر جاتا ہے، بلکہ بدنما داغوں سے بھی اٹا دکھائی دیتا ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اپنے چہرے پرہفتے میں ایک دو بار قدرتی اجزا ءپر مشتمل ویکس استعمال کریں۔ 


چینی اور لیموں کا مکسچر ایک بہترین ویکس کا کام دیتا ہے۔اس کا استعمال آپ کے چہرے کو رونق بخشے گا اور آپ کے چہرے کی کی جلد کو ترو تازہ بھی رکھے گا۔

 ان قدرتی موئسچرائزر سے جلد کی کم عمری اور کشش میں بے پنا ہ اضافہ ہوتا ہے۔گرمیوں میں فاونڈیشن کے بجائے کوئی ہلکا پھلکا موئسچرائزز استعمال کریں، کیوں کہ دھوپ اور گرمی میں فاونڈیشن پگھلنے لگتا ہے، جب کہ موئسچرائزز میں ایس پی ایف کو بہ طور جزو استعمال کے جاتا ہے، اس لیے یہ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔ خواتین کی اکثریت کی جلد حساس ہوتی ہے اور موسم گرما کی شدت نہ صرف اس جلد کو جھلسادیتی ہے بلکہ اس کی وجہ سے ان کی جلد کی رنگت بھی سیاہ ہو جاتی ہے۔ 

چہرے کی تازگی کے لیے اس موسم میں زیادہ سے زیادہ پانی استعمال کریں ،ٹھنڈی چیزیں کھائیں۔گرمی میں پسینہ بہت زیادہ آتا ہے، تاکہ جسم کا اندرونی درجہ حرارت نارمل رہے، اس لیے جلد کو بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے اس کے مسام کھل جاتے ہیں اور ان میں میل کچیل جمع ہو کر اس جلد کو بدنما دانے بناتے ہیں۔ 

اس سے بچنے کے لیے کم ازکم دن میں تین چار بار اپنا چہرہ سادہ پانی سے دھوئیں اور گھر سے باہر نکلیں تو دھوپ سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر بھی اختیار کریں۔۔۔۔۔


چکنی جلد کی۔۔۔۔۔۔

 حامل خواتین کو اکثر کیل مہاسوں کی شکایت رہتی ہے اور بہ طور خاص گرمیوں کے موسم میں تو ان میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ان سے بچاؤ کے لیے نیم کے پتوں کو پانی میں ابال کر اس پانی کو ٹھنڈا کرکے اس سے منہ دھوئیں، تاکہ مہاسوں میں کمی آسکے۔ اس کے علاوہ ایک چمچہ شہد کو آدھا چمچہ لیموں کے عرق میں ملا کر اپنے چہرے پر لگائیں اور پندرہ منٹ بعد چہرے کو دھولیں۔ شہد اور لیموں جلد کی چکنائی کو اچھی طرح سے نکال کر چہرے کو صاف کردیتے ہیں۔ ان میں پائے جانے والے عناصر پوٹاشیم، سیٹرک ایسڈ اور گلوکوز وغیرہ چکنے غدودوں کے عمل کو مزید بڑھنے سے روکتے ہیں۔ ساتھ ہی چکنی جلد والی خواتین گاجر کا ماسک استعمال کریں یعنی گاجر کا جوس نکال کر روئی کی مدد سے چہرے پر لگائیں اور یہ عمل دن میں تین بار دہرائیں، انہیں افاقہ محسوس ہوگا۔


خشک جلد۔۔۔۔۔

 والی خواتین کی جلد گرمیوں میں نارمل رہتی ہے، لیکن ان کے لیے بھی اپنے چہرے کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ زیتون اورگلاب کا عرق ملا کر چہرے پر لگانے سے جلد کی خوب صورتی برقرار رہتی ہے۔ خشک جلد کو نرم کرنے کے لیے انڈے کی سفیدی میں لیموں کا عرق ملا کر اچھی طرح پھینٹ لیں اور اس پیسٹ کو پندرہ منٹ تک چہرے پر لگا رہنے دیں، اس کے بعد تازہ پانی سے چہرہ دھولیں۔


 بیسن، دہی اور لیموں سے تیار کردہ ماسک خشک جلد کے لیے بہترین اور آزمودہ ہے۔تھوڑا سا بیسن لے کر اس میں لیموں کا رس اور دہی ملا کر چہرے پر لگالیں، جب یہ پیسٹ خشک ہو جائے تو ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھولیں۔ 

یہ ماسک ہفتے میں تین دن استعمال کریں، تاکہ جلد کا کھردرا پن ختم ہوسکے اور اس کی تازگی برقرار رہے۔


 نارمل جلد ۔۔۔۔

کی حامل خواتین کو زیادہ محنت کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ ذرا سی توجہ اور احتیاط سے اپنے چہرے کو تروتازہ رکھ سکتی ہیں۔ گرمیوں میں جب باہر کھلی دھوپ میں سے واپس آئیں تو گلاب کے عرق کا اسپرے اپنے چہرے پر ضرورکریں۔۔۔۔۔

گھر پر ایک کلینزنگ کریم تیار کریں جس کو بنانے کے لیے ایک کھانے کا چمچہ سوکھا دودھ اور چند قطرے گلاب کا عرق لے کر مکس کرلیں اور چہرے پر لگالیں، اگر ہو سکے تو گردن پر بھی اس کریم کا ہلکا ہلکا مساج کرلیں۔ اس سے آپ کے چہرے کی دلکشی بڑھے گی اور شادابی بھی واپس آجائے گی۔


** مرجھائی ہوئی جلد کے لیے** 


اگر جلد مرجھارہی ہے تو سمندری نمک سے جلد کامساج کریں۔اس کے لیے پہلے جلد کو اچھی طرح سے نم کریں اس کے بعد دوچائے کے چمچ سمندری نمک لے کر اپنے چہرے کے ٹی زون ایریا پر لگا کر ہلکے ہاتھوں سے مساج کریں۔

آنکھوں کے گرد لگانے سے گریزکریں۔دومنٹ بعد چہرے کو ٹھنڈے پانی سے دھوڈالیں ۔یہ عمل ہفتے میں ایک مرتبہ کریں۔


رنگت سرخ وسفید کرنے کے لیے زیتون کے تیل میں زعفران اور لیموں کا رس ملا کر روزانہ را ت کو سوتے وقت اپنے چہرے پر لگائیں۔صبح کسی اچھے صابن سے دھولیں۔کچھ دنوں میں فرق محسوس ہو گا۔


چنے کی دال دودھ میں بھگو لیں ۔جب دال میں سارا دودھ خشک ہو جائے تو دال کو پیس کر ابٹن بنالیں ۔

چہرے پر لگائیں خشک ہونے پر چہرہ دھولیں۔ چہرہ شاداب اور پر رونق ہو جائے گا۔


** چہرے پر دانے**


اگر چہرے پر دانے نکلتے ہیں تو کالی مرچ باریک پیس کر چہرے پر لگائیں۔


** اسکن فوڈ **

اسکن فوڈ کے لیے ضرورت ہے تین بڑے چمچ ویکس،آٹھ بڑے چمچ بادام کا تیل اور کوئی بھی مناسب اور معیاری پر فیوم آدھا چمچ۔

ویکس اور تیل کو ابال لیں۔بعد میں اس میں چھ چمچ پانی ملا کر جوش دیں۔

پھر اس میں خوشبو ڈالیں۔ٹھنڈا کرکے بوتل میں ڈال دیں۔


** تھروٹ موئسچرائزنگ ماسک**


کھانے کا ایک چمچ لینولین،کھانے کا ایک چمچ گلیسرین ،کھانے کا ایک چمچ گندم آئل ،چائے کا ایک چمچ چھتہ کا موم،وٹامن اے اور ڈی کا ایک کیپسول کھول کر اس کا سفوف شامل کریں اور چھ قطرے لیونڈر آئل۔ان تمام اجزاء کو پگھلا کر ملالیں۔ڈبل بوائیلرمیں رکھ کر گرم کریں اور ہلاتی جائیں یہاں تک کہ ان سب کا آمیزہ تیار ہو جائے۔ٹھنڈا ہونے پر بوتل میں بھر لیں اور فریج میں رکھیں۔

استعمال کرتے وقت تھوڑا سا پیسٹ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں لگا کر گردن پرنیچے سے اوپر کی طرف مساج کریں۔ہفتہ میں دومرتبہ دس منٹ کے لیے یہ عمل کریں۔


**  غذائیں ۔۔۔۔۔۔  جلد کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہیں موسم گرما میں اپنی غذا کا خاص خیال رکھیں۔

 اس موسم کے دوران تربوز، انناس،کھیرا، ٹماٹر اور لیموں کا استعمال کریں، کیوں کہ ان میں پانی کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔ ایسی غذائیں آپ کی جلد کے لیے بہت مفید ہیں اور اسے تروتازہ رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ صابن کے معاملے میں بہت احتیاط کریں۔


گرمی کے موسم میں جلد کے مسام کھل جاتے ہیں، اس لیے کوئی ایسا صابن استعمال نہ کریں جس میں کیمیکل کی مقدار زیادہ ہو، کیوں کہ اس کی وجہ سے جلد کو بہت نقصان پہنچ سکتا ہے۔۔۔۔۔

دھوپ کی تمازت سے چہرے کو محفوظ رکھنا بہت ضروری ہے، اس مقصد کے لیے اکثر خواتین بازاری کریموں کا سہارا لیتی ہیں جو بہت زیادہ نقصان دہ ہیں۔ چہرے کی جلد کو نرم و نازک بنانے کے لیے اگرچہ تھوڑی سی محنت درکار ہوتی ہے، مگراس کے بعد آپ خود کوسب سے نمایاں اور شاداب محسوس کریں گی۔

****************************


**کھلے ہوئے مسام بند کرنا**


 کھیرے کی برف سے تین منٹ تک مساج کریں۔ اس کے بعد stem لیں، تولیے کو گرم پانی میں بھگو کر بھی بھاپ لے سکتے ہیں۔۔۔۔ اس کے بعد اسکرب کریں۔

 اسکرب تیار کرنے کے لئے۔۔۔۔۔۔

دو چمچ پسی ہوئی چینی، چند قطرے لیموں کا رس ایک چمچ پانی میں حل کر لیں۔ مساموں پر اچھی طرح لگائیں۔ سوکھنے پر ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھو لیں۔۔۔۔۔۔ 

ٹونر۔۔۔۔۔  ایک چمچ سیب کا سرکہ لیکر اس کی 5 چمچ پانی میں حل کر لیں۔ روئی کی مدد سے چہرے پر تھپتھپاتے ہوئے لگائیں دو منٹ سوکھنے دیں۔ اسی عمل کو مزید تین بار دہرائیں۔ اس کے بعد icing  مساج 5 منٹ تک کریں۔


                                             **خوبصورت ہونٹ**

 1

۔ دودھ میں زعفران ڈال کر کچھ دیر کے لئے چھوڑ دیں جب زعفران رنگ چھوڑے تو اس کو ہونٹوں پر ملیں ہونٹ گلابی ہوجائیں گے۔

2

۔ ہونٹوں پر گلیسرین لگانے سے ہونٹ پھٹنے سے بچ جاتے ہیں اور ہونٹ صحت مند اور گلابی ہوجاتے ہی


3

۔ ہونٹوں پہ عرق گلاب کا استعمال ہونٹوں کو گلابی بناتا ہے۔

4

۔ ناریل کا تیل ہونے پر لگانے سے ہونٹ نرم اور خوبصورت ہوتے ہیں۔

5

۔ گلیسرین میں زیتون کا تیل اور لیموں مکس کریں اور ہونٹوں پر ملیں۔ 

6

۔ ملائی میں زیتون کا تیل ملا کر ہونٹوں پر ملیں۔ رات کو لگا کر سوئیں۔

ہونٹوں کی قدرتی سرخی کے لیے زعفرانی کو دودھ میں ملا کر ہونٹوں پر لگائیں ۔پانچ منٹ بعد دھولیں۔


** لپ  گلوس **


لپ گلوس بھی گھر میں بنا یا جا سکتا ہے اس کے لیے ویکس ایک بڑا چمچ ،بادام،کھوپرے اور پام کا تیل پانچ بڑے چمچ،رتن جوت ،اور نج آئل اور کوئی خوشبو ایک ایک چمچ کی ضرورت ہے ۔

تیل گرم کرکے اس میں رتن جوت ڈالیں۔تیل کو اچھی طرح چھان لیں۔اب ویکس ڈالیں اور دوابال دیں اور اب اس میں خوشبو ملا لیں۔اس کو ٹھنڈا کرکے بوتل میں رکھ لیں۔


**************************************

 ** جلد کو ٹائٹ کرنا**

 1

۔ ایک عدد انڈے کی سفیدی، دو چمچ ٹماٹر کا جوس، ایک چمچ ہلدی، دو چمچ لیمن جوس مکس کرکے چہرے پر روئی سے لگائیں۔ 5 منٹ بعد دوسری تہہ جمائیں۔ 20 منٹ بعد مسلتے ہوئے ماسک کو ہٹائیں۔ روزانہ کریں اسکن ٹائٹ ہونا شروع ہو جائے گی۔

2

۔ ایک انڈے کی سفیدی میں ایک چمچ ایلو ویرا جیل اور ایک چمچ بیسن ملا کر پیسٹ بنالیں اور اسے اپنے چہرے پر لگائیں۔  جب آپ کو لگے کہ پیسٹ سوکھنے لگا ہے اور تناؤ پیدا ہو رہا ہے تو اوپر کی طرف کھرچتے ہوئے ہٹائیں اور ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھولیں۔ ہفتے میں دو بار کرنے سے اسکن ٹائٹ ہونا شروع ہو جائیگی۔ 

3 

۔ روزانہ رات کو سوتے وقت ایلو ویرا جیل لگائیں۔ ایلو ویرا اسکن کو ٹائٹ کرتا ہے۔

4 

۔ نارنجی جلد کو ترو تازہ اور جوان رکھنے میں مدد کرتی ہے۔ نارنجی میں بہت زیادہ مقدار میں کیلشیم اور وٹامن سی ہوتا ہے جو جلد کو صحت مند اور جوان رکھتی ہے۔ غذائیت سے بھرپور پھل ہے۔ جلد کی صفائی کرتا ہے۔ اس کے چھلکوں کو پیس کر سفوف بنا لیا جائے اور اسے ابٹن کے طور پر استعمال کیا جائے تو حیرت انگیز رزلٹ ہوتے ہیں چہرہ بے داغ، جھریوں سے پاک ہوجاتا ہے اور اس کا سفوف ٹانک کا کام کرتا ہے۔

5

 ۔روزانہ صرف بیسن کا پیسٹ عرق گلاب اور گلیسرین سے بنا کر لگانے سے اسکن ٹائٹ ہوتی چلی جائے گی۔


                                             ** چہرے کے داغ دھبے دور کرنا**

1.

 داغ دھبے دور کرنے کے لیے لیموں بہترین ٹانک ہے۔ لیموں کے رس میں ناریل کا تیل ملا کر ہلکے ہاتھوں سے مساج کریں اور روئی یا ٹشو کی مدد سے صاف کریں۔ روزانہ ایک بار کریں آپ کی جلد بے داغ ہو جائے گی۔

2

۔ ملتانی مٹی کو عرق گلاب میں بھگو کر پیسٹ بنالیں اور 25 منٹ کے لئے چہرے پر لگا کر چھوڑ دیں۔ ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھونے کے بعد روئی کی مدد سے کھیرے کا رس لگائیں 30 منٹ بعد ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھولیں روزانہ ایک ماہ اس نسخے پر عمل کرنے سے مطلوبہ نتائج برآمد ہوں گے۔

3

۔ ٹماٹر کا جوس دو چمچ، آلو کا رس دو چمچ، ہلدی ایک چوتھائی چمچ، لیمن جوس دو چمچ،  صندل پاؤڈر یا بیسن دو چمچ پیسٹ بنا کر لیپ کریں 30 منٹ بعد ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھو کر برف سے ٹکور کریں۔ چند دنوں میں ہی بہترین رزلٹ ملیگا۔ مسلسل اس نسخے پر عمل کرنے سے چہرہ ہمیشہ جوان رہتا ہے۔

4

۔ ناریل کے دودھ میں روئی بھگو کر چہرے پر لگانے سے داغ دھبے دور ہوجاتے ہیں

۔

5

۔ ایسی کریم لیں جس میں فولک ایسڈ اور لیکٹک ایسڈ ہو اس کریم میں عرق گلاب اور فیس پاؤڈر مکس کر کے چہرے پر لگائیں تو داغ دھبے دور ہوتے ہیں اور چہرے کا قدرتی رنگ بحال ہوتا ہے۔

6 

۔ تازہ پودینہ کے چند پتے پیس کر اس کو چہرے پر لگائیں 20 منٹ بعد ٹھنڈے پانی سے دھو لیں داغ دھبے، جھائیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ 

7

 ۔ انڈے کی سفیدی، ایک چمچ شہد، آدھا چمچ لیموں کا رس۔۔ ان سب کو مکس کر کے چہرے پر لگائیں اور 20 منٹ بعد ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھو کر خشک کرلیں پھر زیتون کے تیل یا گلیسرین کی مدد سے 5 منٹ تک مساج کریں۔ 

انڈا ایسٹروجن کی طرح کام کرتا ہے جو اسکن کو ٹائٹ کرنے میں مدد کرتا ہے جبکہ شہد موئسچرائزنگ کا کام کرتا ہے لیموں میں عورت کی خوبصورت جلد کا راز پوشیدہ ہے۔ 

8 ۔ روحانی علاج۔۔۔۔

روزانہ ایک تسبیح یا خالق۔۔ یا مصور۔۔۔ یا جمیل۔۔۔ پڑھ لیں اللہ تعالیٰ اپنے ناموں کی برکت سے آپ کو روحانی حسن و جمال عطا فرمائے گا۔

9۔ جب بھی آئینہ دیکھیں، جتنی دیر دیکھیں پڑھیں۔۔۔۔

بسم اللہ ماشااللہ لا قوت الا بالللہ۔

10 ۔ یا اللہ۔۔ یا نور۔۔۔ صبح شام ایک ایک تسبیح پڑھ لیں اللہ تعالیٰ آپ کے چہرے کو نور اور جمال عطا فرمائے گا۔

****************************************

** چہرے کا روا (بال) دور کرنا**

 اکثر لوگوں کے چہرے پر روا ہوتا ہے جو بد نما لگتا ہے یہ ہارمون کی خرابی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اسے ختم کرنے کے لیے مندرجہ ذیل نسخوں پر عمل کریں مستقل کرنے سے روا ختم ہو جائے گا۔

1

 ۔ ایک چمچ پھٹکری کو ایک کپ پانی میں گھول لیں پھر روئی کی مدد سے روا پر لگائیں۔ یہ عمل کچھ ماہ مسلسل کریں۔ پھٹکری بالوں کی جڑوں کو کمزور بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے بالوں کو بڑھنے سے روکتی ہے اور روا بلکل ختم ہو جاتا ہے۔

2 

۔ کا مسلسل wax

ااستعمال کرنے سے بھی روا ختم ہو جاتا ہے

3

۔  گیہوں کا آٹا دو چمچ، کچا دودھ ایک چمچ، دو چمچ بیسن، دو چمچ ٹماٹر کا رس انہیں باہم یکجا کریں اور اچھی طرح لیپ کریں 20 منٹ کے بعد 5 منٹ مساج کریں اور ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھو لیں۔ مسلسل عمل کرنے سے روا ختم ہو جائے گا

4

 ۔ انڈے کی سفیدی میں ایک چمچ لیموں اور شہد ملا کر مکس کریں چہرے پر لگائیں پھر اپنے چہرے پر ٹشو اچھی طرح پیسٹ کریں اس ٹشو پر دوبارہ ماسک لگائیں اور سوکھنے کے لئے چھوڑ دیں جب آپ کو لگے کہ جلد میں تناؤ پیدا ہورہا ہے تو ٹشو کو اوپر کی جانب کھینچتے ہوئے ہٹائیں اس طرح کرنے سے روا ٹشو پر چپک جائے گا اور چہرہ صاف شفاف ہو جائے گا مسلسل کرنے سے روا ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتا ہے۔


اگر آپ کا کوئی سوال ہے تو آپ ہمیں  کمنٹ کریں یا پھر ہمارے ای میل پر پوچھ سکتے ہیں۔

********************************************************************************

آنکھوں کا دھندلا پن کیسے دور کیا جائے؟

کیا آپ آنکھوں میں دھندلا پن موجو د ہے؟؟

کیا آپ آنکھوں کے دھندلکے سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں؟؟ تو مندرجہ ذیل چیزیں آپ کی توجہ چاہتی ہیں۔ 

                                                     **  آنکھوں کا دھندلا پن  **

                                     ٹھیک بینائی کے باوجود آنکھوں کا دھندلانا سنگین بیماری کی علامت ہوسکتا ہے


                           کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ بینائی ٹھیک ہونے کے باوجود آنکھیں      دھندلا جاتی ہوں؟

اگر ہاں تو یہ معاملہ سنگین بھی ہوسکتا ہے کیوں کہ یہ دل کی شریانوں میں سنگین بیماری کی علامت بھی ثابت ہوسکتی ہے۔


 شریان میں خون کی رکاوٹ پیدا ہونے سے   آنکھوں تک خون   کی سپلائی رک جاتی ہے جس  کی وجہ سے یہ          مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔


ایتھنر کی نیشنل اینڈ کیپوڈیسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اس طرح کی رکاوٹ عام طور پر کولیسٹرول اور خون کے خلیات کے اکھٹے ہونے سے پیدا ہوتی ہے جو سر اور گردن تک خون پہنچانے والی شریان کو متاثر کرتی ہے۔

بظاہر تو یہ رکاوٹ بہت معمولی ہوتی ہے مگر اس کے نتیجے میں سنگین طبی مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ اس سے بینائی کے خاتمے یا جان لیوا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔


                                                                  **چیک اپ ضرور کروائیں**


جسمانی صحت کے سالانہ چیک اپ کی طرح آنکھوں کا سالانہ چیک بھی اتنا ہی اہم اور ضروری ہے۔ایسے لوگ جو صحت کے عمومی مسائل کا شکار رہتے ہیں، ان کے لیے آنکھوں کا باقاعدگی سے چیک اپ کروانا انتہائی اہم ہے۔

اگر آپ کی فیملی ہسٹری میں آنکھوں کے مسائل موجود رہے ہیں تو آپ کو اس بارے میں انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے، کسی بھی علامت کو محسوس ہوتے ہی معالج سے فوراً رابطہ اور چیک کروانا انتہائی اہم اور ضروری ہے کیونکہ بروقت علاج اور تدارک سے بیماری اور اس کے مضر اثرات سے بچا جا سکتا ہے۔


اس کے لیے سب سے اہم مرحلہ یہ ہے کہ آپ کوئی بھی علامت محسوس ہوتے ہی اپنی فیملی یا ذاتی معالج سے ملیں اور اس سے اپنی علامات کے بارے میں معلومات لیں، اور اگر آپ کا معالج محسوس کرے کہ آپ کو سپیشلٹ ڈاکٹر کو چیک کروانے کی ضرورت ہے تو وہ آپ کو کوئی اچھا سپیشلٹ تجویز کرے گا۔ اگر سپیشلسٹ آپ کی نظر میں کسی قسم کا مسئلہ یا کوئی ابتدائی علامت دیکھے تو وہ آپ کو اس کے مطابق دوائیاں تجویز کرے گا جنہیں استعمال کرنے سے آپ ان ابتدائی علامات سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔ یاد رہے، احتیاط علاج سے بہتر ہے، اور اسی طرح ابتدائی علاج، بیماری کے طول پکڑ جانے پر کروائے جانے والے علاج سے ہزار درجہ بہتر ہے۔

                                                              ** نظر کے مسائل کی ممکنہ علامات **


اگر آپ اپنی نظر میں مندرجہ ذیل علامات میں سے کوئی بھی محسوس کرتے ہیں، تو فوراً اپنے آنکھوں کے معالج Ophthalmologist سے رابطہ کریں، چاہے آپ نے کچھ دن پہلے ہی آنکھوں کا معائنہ کروایا ہو۔ 

**آنکھوں میں اچانک اور شدید درد


** آنکھ کے اندر یا ارد گرد درد کا بار بار ہونا


** نگاہ کا دھندلا ہونا یا چیزوں کا ڈبل نظر آنا


** چمک، روشنی یا چمکدار روشن نقطوں کا

 دکھائی دینا

** روشنی یا لائٹ کے گرد قوس قزح جیسے

 رنگوں یا روشنی کا ہالہ دکھائی دینا

** ہوا میں مکڑی کے جالے جیسے اشکال تیرتی

 نظر آنا

**ایک یا دونوں آنکھوں پر پردہ سا پڑتا ہوا

 دکھائی دینا

** آنکھ میں "کپ میں سیاہی بھرنا" جیسا

 احساس ہونا

** روشنی اور چمک سے غیر معمولی اور درد سے

 بھرا احساس ہونا

**سوجی ہوئی لال آنکھیں

 عینیکiris [ آنکھ میں قرنیے کے پیچھے کی گول

 رنگدار جھلی جس کے پیچ میں گول سوراخ ہوتا ہے] کے رنگ کا تبدیل ہونا

**آنکھ کی پتلی میں سفیدی ہونا

آنکھ میں اچانک مستقل طور پر تیرنے والے اجزاء کا بننا

** آنکھ میں چبھن، جلن یا پھر بھاری مقدار می


 آنکھ سے مواد کا اخراج ہونا

**نگاہ میں اچانک کسی بھی قسم کی تبدیلی

 


                                  ** نظر کے مسائل کی ممکنہ دیگرعلامات **


نظر کے مسائل کی نشاندہی کے لیے مزید کئی علامات بھی ہو سکتی ہیں جو کہ روز مرہ کے معاملات سے متعلقہ ہیں۔ یہ علامات درج ذیل ہیں۔

                      **چلنے میں، یا ابھری ہوئی سطحوں پر چلنے میں دشواری کا سامنا

                                   **ہچکچاتے ہوئے چلنا اور قدم اٹھانے میں ہچکچاہٹ کا سامنا ہوناسیڑھیاں چڑھتے اور              اترتے وقت انتہائی سست روی کا مظاہرہ کرنا

**پیروں کو گھسیٹ کر چلنا

** چلتے ہوئے دیواروں سے لگ کر چلنا

** چیزوں کو پکڑتے ہوئے کبھی ہاتھوں کا پیچھے رہ جانا اور کبھی چیز سے آگے نکل جانا

** مختلف روزمرہ کے معمولات کو کرنا چھوڑ دینا یا انہیں مختلف طریقے سے کرنا مثلاً مطالعہ، ٹی وی دیکھنا، ڈرائیونگ، چلنا پھرنا یا اپنے مشاغل کو کرنے سے ہچکچانا یا انہیں ترک کر دینا

**آنکھ میں بھینگا پن ہونا یا چیزوں کو دیکھتے وقت سر کو کسی مخصوص زاویے پر ایک طرف جھکا کر دیکھنا

** چہروں اور چیزوں کو پہچاننے میں دشواری کا سامنا ہونا

**مانوس ماحول میں بھی ذاتی اشیاء کو ڈھونڈنے میں دشواری کا سامنا کرنا

** چیزوں کو تھامتے ہوئے بے یقینی کی کیفیت کا اظہار

**رنگوں کی پہچان میں دشواری کا سامنا

** کھانا کھاتے ہوئے کھانے کو چمچ سے اٹھانے میں دقت کا سامنا

** کھانا کھاتے ہوئے پلیٹ سے باہر گرا دینا

** گلاس یا کپ میں پینے والی اشیاء ڈالتے ہوئے گلاس کے بھرنے کا پتہ نہ چلنا

** اخبار یا ڈاک وغیرہ کو نہ پڑھنا

**پڑھنے والی چیز کو آنکھ کے انتہائی قریب رکھ کر پڑھنا

** لکھنے میں دقت ، خاص کر لائن میں لکھنے میں مسائل کا سامنا ہونا


یاد رہے کہ یہ تمام علامات ہیں جن سے اندازاہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کی نظر کمزور ہورہی ہے یا کسی مسئلہ کا شکار ہے، ایسی کسی بھی علامت کو محسوس کرتے ہیں اپنے ذاتی معالج یا آنکھوں کے علاج کے ماہر سے فوری رابطہ کریں اور کسی بھی ممکنہ پیچیدہ بیماری سے بچیں۔ یاد رہے کہ احتیاط بیماری اور پیچیدگی، دونوں سے بچاتی ہے۔

                                      ** آنکھیں توجہ مانگتی ہیں**


آنکھ بہت نازک عضو ہے ، اس لیے اس کی صحت کے لیے خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ آنکھوں کو ہر روز کم از کم دوبار صاف پانی سے دھونا چاہیے۔



 

معالج کے مشورے کے بغیر کوئی دوا نہیں ڈالنی چاہیے۔ سر میں مستقل درد رہتا ہو تو بینائی چیک کروانی چاہیے۔ ذیل میں چند ایسی علامتیں درج کی جارہی ہیں، جن کے ظاہر ہونے پر فوراََ آنکھوں کے معالج سے رابطہ کرنا چاہیے۔

                                                **پیلی آنکھیں**

عمر میں اضافہ ہونے پر بعض افراد کی آنکھوں میں زردی مائل بھورا رنگ جھلکنے لگتا ہے، اس لیے کہ ان کی غذاؤں میں پھل اور سبزیاں کم اور چکنائی زیادہ ہوتی ہے، نتیجتاََ ان کے جسموں میں چکنائی جمع ہونے لگتی ہے، جس سے آنکھوں پر تواثر نہیں پڑتا ، البتہ جلد کی ضرور متاثر ہوتی ہے اور انھیں یرقان ہوسکتا ہے ۔

ایسی صورت میں کسی معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔


                                                        **دھندلی بصیرت**

بصارت میں دھند لا پن آجانا موتیا بند کی ابتدائی علامت بھی ہوسکتی ہے۔ اس میں آنکھوں کے سامنے سائے سے نظر آنے لگتے ہیں، جو جراحی کے بعد ختم ہوجاتے ہیں۔ اگر اسے بے پروائی سے ٹال دیا جائے تو کالا پانی ہوسکتا ہے اور آنکھوں کی بینائی بھی ختم ہوسکتی ہے۔

                                                            * *آنکھوں میں جھماکے**

جب آپ ذہنی الجھن اور تناؤ سے دوچار ہوتے ہیں تو آنکھوں میں جھماکے پیدا ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ بردہٴ چشم میں خرابی کی علامت ہے۔ چناں چہ ایسی کوئی خرابی پیدا ہوجائے تو اس کی طرف سے بے پروائی نہ برتیے، بلکہ فوراََ آنکھوں کے معالج کو دکھائیے۔


                                                          **دہری نظر**


نشہ آور ادویہ کھانے سے آپ کو ایک کے بجائے دو دکھائی دینے لگتے ہیں اس کے علاوہ اگر بچپن میں آنکھوں میں بھینگا پن پیدا ہوجائے تو اس سے بھی بصارت میں ایسا نقص پیدا ہوجاتا ہے، لیکن یہ شکایت اگر بعد بھی پیدا ہوجائے تو یہ اعصابی نظام کے اکڑ جانے، فالج،رسولی یا کسی دوسری بیماری کا اشارہ ہوسکتا ہے۔

ماہرین چشم کہتے ہیں کہ آج کے جدید دور میں بصارت کی خرابی کی زیادہ تر وجہ اسکرین ہے۔   اس لئے وہ لوگ جو بہت زیادہ کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا موبائل فون کا استعمال کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ ہر 20 منٹ بعد وہ اپنی آنکھوں کو 20 سیکنڈ تک سکون دیں۔ اس طریقے پر عمل کرنے سے بصارت کو نقصان نہیں ہوگا۔

                                                          **غیر واضح بصارت**

بصارت میں اگر دھندلا ہٹ پیدا ہوجائے تو نزدیک ودور کی نگاہ خراب ہوجاتی ہے یا آنکھوں میں نقص کی وجہ سے اشکال بگڑی ہوئی نظر آتی ہیں۔


اگربصارت غیر واضح ہو تو یہ اس بات کی علامت ہوسکتی ہے۔کہ آپ کے بلڈ پریشر میں اضافہ ہوگیا ہے، آپ کے خون میں شکر کی سطح بے قابو ہورہی ہے یا بڑھتی عمر کے ساتھ آنکھ کے قرنیے کے سفید حصے میں بھی خرابی پیدا ہوگئی ہے۔ یہ بیماری کسی کو بھی ہوسکتی ہے، لیکن ”لیوٹن“ کے ضمیے کھانے سے بیماری کی رفتار سست ہوجاتی ہے۔ ”لیوٹن“ ایک صحت بخش جزو ہے، جو پالک،انڈے کی زردی، حیوانی چربی اور پودوں میں پایا جاتا ہے۔


                                                           **آنکھوں میں درد**

کمپیوٹر کے سامنے بہت دیر تک بیٹھے رہنے کی وجہ سے یہ شکایت پیداہوجاتی ہے، لہذا کام کے دوران وقفہ دینا چاہیے۔


ہر 20منٹ کام کرنے کے بعد 20 سیکنڈ تک آنکھوں کو سکون دیں اس طرح کرنے سے بصارت میں کافی نمایاں تبدیلی آتی ہے اور آنکھیں تھکاوٹ سے دور رہتی ہیں۔


                                                **آنکھوں میں چبھن یا سرخی**

الرجی یا تعدیے کی بنا پر آنکھیں سرخ ہوسکتی ہیں اور ان میں ایسی چبھن بھی پیدا ہوسکتی ہے، جیسے آنکھوں میں باریک ریت یا کنکر چلے گئے ہوں ۔ پلکوں پر زیادہ میک اپ کرنے کی وجہ سے بھی ایسا ہوجاتا ہے، لہذا ایسی صورت حال سے میں فوراََ معالج سے رجوع کریں۔

عرق گلاب سے آنکھوں کو صاف کرنے کی عادت ضرور ڈالیں۔



                                                         ** گہرے حلقے** 

آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے اکثر افراد کے پڑ جاتے ہیں جس کی وجہ عام طور پر نیند کی کمی ہوتی ہے۔ یعنی رات گئے تک جاگنا اور جلد اٹھ جانا آنکھوں کے گرد حلقوں کا باعث بن جاتا ہے، تاہم اگر یہ حلقے مناسب نیند لینے کے باوجود ختم نہ ہو تو طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دیگر طبی مسائل کا اشارہ ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تھائی رائیڈ (بے نالی غدود) یا خون کی کمی جیسے امراض کی علامت بھی ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر آپ مناسب نیند لیتے ہیں مگر پھر بھی خود کو تھکاوٹ کا شکار محسوس کرتے ہیں یہ تھائی رائیڈ یا خون کی کمی کی علامت ہوسکتی ہے، ایسے حالات میں اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرکے ان دونوں کیفیات کا ٹیسٹ ضرور کروائیں۔


                                                              **آنکھوں میں پیلاہٹ**

اگر آپ کی آنکھوں کا سفید حصہ زرد یا پیلاہٹ زدہ نظر آنے لگے تو یہ جان لیوا جگر کے امراض کی ممکنہ علام ہوسکتی ہے جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ طبی ماہرین کے مطابق آنکھوں کی یہ رنگ ہیپاٹائٹس، جگر کے صحیح سے کام نہ کرنے یا دیگر امراض کے باعث بھی ہوسکتی ہیں۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر سے فوری رجوع کرنا چاہئے کیونکہ ضروری نہیں کہ جگر کے امراض نے آپ کو شکار کیا ہو تاہم ایسا ہوا بھی ہے تو ابتدائی سطح پر ہی ان پر زیادہ موثر طریقے سے قابو پایا جاسکتا ہے۔


                                                            **آنکھوں میں سرخی**

ضرور پڑھیں: ’خود کو مت تھکاؤ بلکہ پانی بچاؤ‘سلمان خان نے ”بوتل کیپ چیلنج“ منفرد انداز میں قبول کرلیا

اگر آپ کی آنکھیں بہت سرخ یا ان میں سرخ لکیریں سے بن گئی ہو تو پہلی فرصت میں ڈاکٹر کے پاس پہنچ جائیں کیونکہ یہ سنگین امراض جیسے آشوب چشم، پپوٹوں کی سوزش، آنکھ کے پردے کے ورم اور کسی قسم کے موتیا کی جانب اشارہ بھی ہوسکتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کچھ کم سنگین وجوہات بھی ہوتی ہیں جیسے آٹھ گھنٹے تک کمپیوٹرز پر کام کرنے سے آنکھوں میں درد کے باعث سرخ لکیریں بن سکتی ہیں اور اس صورت میں آنکھوں کا معائنہ کروانا بہتر رہتا ہے کیونکہ یہ بنیائی کی کمزوری کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے، اسی طرح یہ کسی قسم کی الرجی کے باعث بھی ہوسکتا ہے۔


                                                        **خشک آنکھیں**

اکثر افراد کو اس قسم کی تکلیف کا سامنا ہوتا ہے جس کے دوران لگتا ہے جیسے آنکھیں بالکل خشک ہوگئی ہیں، جس کی وجہ اکثر وٹامن اے کی کمی ہوتی ہے، تاہم یہ شکایت عمر بڑھنے اور کچھ خاص ادویات کے استعمال کے باعث بھی لاحق ہوسکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی بیماری کا باعث بھی ہوسکتا ہے جو خاص طور پر ایسے گلینڈز کو متاثر کرتا ہے جو آنسوؤں اور لعاب دہن کو بنانے کا کام کرتے ہیں۔عام طور پر اس کے دوران ایسا لگتا ہے کہ جیسے آنکھ میں کوئی کنکر چلا گیا ہو اور چبھن محسوس ہوتی رہتی ہے۔ وٹامن اے کے ساتھ ساتھ غذا میں صحت بخش چربی کی کمی بھی اس کا باعث بن سکتی ہے۔ آنکھوں کی ورزشوں پر بھی خصوصی دھیان اور توجہ دیں۔ خشک آنکھوں والے اپنی پلکوں کو مسلسل جھپکنے کا عادی بنائیں۔



                                                                  ** سوجی ہوئی آنکھیں**

گہرے حلقوں کی طرح آنکھوں کا سوج جانا بھی چہرے کی کشش کو ماند کردیتا ہے، اس کے لیے اکثر برف کی ٹکور، کھیرے کا ٹکڑا یا دیگر ٹوٹکوں کا استعمال کیا جاتا ہے مگر جب یہ کسی صورت ختم نہ ہو تو زیادہ سنگین طبی مسائل کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ گردوں میں کسی قسم کی خرابی کی جانب اشارہ ہوسکتا ہے جس کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا بہتر رہتا ہے جبکہ نمک کے بہت زیادہ استعمال سے بھی یہ تکلیف آپ کو اپنا شکار کرسکتی ہے۔


ایسی آنکھوں میں سوزش یا چبھن ہوتی ہے غالباََ ایسا حسا سیت کی وجہ سے ہوتا ہے یا پھر آنکھوں میں پانی جمع ہوجاتا ہے، جو خارج نہیں ہوپاتا۔

یہ غدؤ درقیہ کے لاحق ہونے کی علامت بھی ہے، جس میں گردن میں سوجن پیدا ہوسکتی ہے۔




                                                                            ** روشن آنکھیں**

ہر آنکھ کے لیے چھ مسلز کام کرتے ہیں‘ ہر آنکھ میں تیرہ کروڑ ایسے سیلز موجود ہوتے ہیں جو دیکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ آنکھوں کی صحیح کارکردگی اور خوبصورتی کیلئے اچھی خوراک ضروری ہے‘ آپ کی آنکھوں کو سب سے زیادہ وٹامن اے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بعد وٹامن بی کا درجہ ہے‘ انہیں وٹامن ڈی اور کیلشیم کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

 وٹامن ڈی استعمال کرنے والوں کی بینائی کو بہتر ہوتے دیکھا گیا ہے۔

 وٹامن اے کیلئے ایسی سبزیاں یا پھل استعمال کریں کا رنگ زرد ہو۔ مثلاً گاجر‘ آم‘ کچالو‘جاپانی پھل‘ مکھن‘ سکوئش وغیرہ۔۔ اس کے علاوہ مچھلی کا تیل‘ کلیجی‘ دودھ‘ پالک وٹامن بی کے لیے کلیجی‘ کا استعمال کریں۔


**************************************************************************

لمبے گھنے خوبصورت بال کسطرح ممکن ہے

صحت مند زندگی گزارنے کے لیے صحت مند ماحول اور صحت مند غذا اور صحت مند سوچ  ضروری ہیں۔ انسانی صحت کا دارومدار اس کی مضبوط مثبت سوچ پر منحصر ہوتا ہے۔ گندی سوچ انسان کے ذہن کو پراگندہ کرتی ہیں اور اس کو طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ صحت مند سوچ صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔ اور ان سب کے ساتھ اگر آپ فطری غذاؤں کا استعمال کرتے ہیں تو پھر آپ کی زندگی اور آپ کی صحت قابل رشک ہوگی۔۔۔

                                      فطرت کی غذاؤں میں زندگی ہے۔


ٹوٹکوں کا صحیح استعمال کیا جائے تو یہ کارگر ثابت ہو تے ہیں۔ کسی بھی ٹوٹکے کو کرنے سے پہلے اسے اچھی طرح سمجھ لیں اس کے تمام لوازمات، کتنی مدت تک کرنا ہے کس مقدار میں کرنا ہے کب کرنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کو غذا کیا استعمال کرنی ہے اس سورت میں کوئی بھی نسخہ آپ کو اپنی بہترین کارکردگی دکھائے گا۔ لگا تار مسلسل کرنے سے آپ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ نسخہ جات کا اثر دیرپا ہوتا ہے اور بہت بہترین ہوتا ہے۔ بہترین غذا صحت مند زندگی کے لئے بہت ضروری ہے۔  بہترین غذا میٹابولزم کی کارکردگی کو بڑھاتی ہے۔


                                         بالوں کی بہتر نشوونما ۔1 


ہمارے بال پروٹین سے بنے ہوتے ہیں اسلئے بالوں کی اصل غذا بھی پروٹین ہے۔ اور پروٹین دودھ، انڈے،مچھلی، دال،  گوشت وغیرہ میں بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے۔ ان میں نہ صرف پروٹین ہوتا ہے بلکہ کیلشیم، وٹامن، زنک، فاسفورس بھی موجود ہوتا ہے جو نہ صرف ہمارے بالوں کیلئے بلکہ پورے جسم کے لئے بہت ضروری ہے۔

*جو لوگ صبح ناشتہ میں انڈہ کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان کے بالوں میں چمک پائی جاتی ہے۔ ان کا چہرہ آپ کو نکھرا ہوا ملیگا۔ کیونکہ انڈہ غزائیت سے بھرپور غذا ہے۔ اس میں موجود پروٹین بالوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ اس میں موجود لیوٹین آنکھوں کی بصارت کو بہتر بناتا ہے۔





** بالوں کی بہتر نشوونما کے لیے اپنی غذا میں تازہ پھلوں، ہری سبزیاں کچی جن میں گوبھی، ٹماٹر، کھیرا ہرا دھنیا، چقندر، دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء، مچھلی ، خشک میوہ جات بادام، پستہ، اخروٹ وغیرہ کا زیادہ استعمال آپ کے بالوں کی نشوونما میں تیزی سے اضافہ کرتا ہے۔

جب تک آپ غذا پر توجہ نہیں دیں گے ٹوٹکہ اپنا اثر دیر سے دکھائے گا ۔۔۔ ۔۔ بہترین غذا کے ساتھ ٹوٹکوں کا استعمال جاری رکھیں گے تو اثرات ظاہر ہوں گے۔۔۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ ٹوٹکے کیمیکل سے پاک ہوتے ہیں اسلئے نتائج میں بھی وقت لگتا ہے لیکن نتائج دیرپا ہوتے ہیں اور پھر ان سے نقصان کا خطرہ نہیں ہوتا۔ جب بھی کوئی ٹوٹکہ آپ اپناتے ہیں اور وہ آپ کے لئے کار گر ثابت ہو تو پھر اسی پر عمل کریں بار بار پریکٹیکل نہ کریں۔ کسی بھی ٹوٹکے کا اثر پانے کے لیے کم از کم اسے چھ ماہ تک جاری رکھیں اور پھر وقفہ وقفہ سے کریں۔ اس سے بہتر نتائج سامنے آتے ہیں۔ 


**اکثر لوگ گنج پن کا شکار ہوتے ہیں یا پھر ان کے سر پہ بہت ہی کم بال پوتے ہیں تو جنہیں گنج پن کی شکایت ہو وہ خواتین وحضرات مندرجہ ذیل میں سے کسی بھی ٹوٹکے کو اپنی سہولت کے مطابق کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ کوئی ایک ہی نسخہ کا استعمال کریں اور ڈائریکشن کو فالو کریں جتنی مدت بتائی جائے اس مدت تک کریں تو یقیناً سود مند ثابت ہوگا۔ 


1. ایک چھوٹی سائز کا پیاز لیکر اس کا رس نکال لیں اب اسمیں ایک چمچ ادرک کا جوس نکال کر مکس کریں اس آمیزے کو اچھی طرح پھینٹے کے بعد ہلکے ہاتھوں سے مساج کرتے ہوئے بالوں کی جڑوں میں لگائیں تقریباً دس منٹ تک مساج کریں اور ایک گھنٹہ بعد سر دھولیں۔۔۔۔۔

ہفتہ میں دو بار لازمی یہ عمل کریں اور چھ ماہ متواتر اس عمل کو جاری رکھیں۔۔۔۔

پیازسے بالوں کو لمبائی میں اضافہ ہوگا اور ادرک بالوں کے گنج پن کو دور کرکے نئے بال اگائے گا۔۔۔۔


**اس کے ساتھ آپ اپنی غذا میں روزانہ تین انڈے، ایک گلاس دودھ،کچی ہری سبزیوں کا استعمال، اور مچھلی ہفتے میں دو بار ضرور کھائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔


2۔ گنج پن کو دور کرنے کے لئے ریٹھے کو رات میں بھگو کر رکھ دیں صبح اس پانی سے سر دھولیں۔ اور رات کو سوتے وقت خالص زیتون کے تیل سے سر کی مالش کریں اور سو مرتبہ کنگھی کریں۔ صبح اٹھ کر ریٹھے والے پانی سے سر دھولیں۔ آپ ایک دن چھوڑ کر یہ عمل کریں۔ اس عمل سے انشاء اللہ بہت افاقہ ہوگا اور رات کو نیند بھی اچھی آئیگی۔۔۔۔۔


3. بالوں میں تیل ڈالنا جن کی روٹین کا حصہ ہوتا ہے انہیں گنج پن کی شکایت نہیں ہوتی۔ اسلئے سر میں تیل لگانے کی عادت ڈالیں۔۔۔


**روکھے بالوں سے نجات**

روکھے بالوں کا مطلب ہے کہ آپ کی غذا میں کمی ہے پروٹین کی کمی کمی کی وجہ سے بال روکھے اور بے جان ہو جاتے ہیں۔ اس کیلئے۔۔۔۔۔۔ 


1.  ایک انڈہ اچھی طرح پھینٹ کر اسمیں دو چمچ ایلوویرا  اور چند قطرے لیموں کے مکس کریں اور پھر ہلکے ہاتھوں سے بالوں کی جڑوں میں مساج کرتے ہوئے لگائیں۔  دو گھنٹے کے لئے چھوڑ دیں اور سر کو شاپر بیگ سے کور کرلیں۔ سر کو کسی ٹرانس پیرنٹ شیمپو سے دھولیں۔ یا کوئی ہربل شیمپو استعمال کریں۔ زیادہ کیمیکل والے شیمپو بالوں کو بے جان اور روکھا کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔


2. ایک گلاس پانی میں ایک لیموں نچوڑ کر اس سے بالوں کی جڑوں اور لمبائی دونوں پر اسپرے کریں۔۔۔۔ پانچ منٹ مساج کریں پھر سادہ پانی سے بال دھولیں۔۔۔


3. نیم گرم پانی سے بال دھونے سے بھی بالوں کو نقصان پہنچتا ہے اس لیے نیم گرم پانی سے پرہیز کریں۔۔۔۔۔


4.  دو چمچ دہی+ دو چمچ شہد + دو چمچ ایلوویرا کا جوس + ایک انڈہ۔۔۔ 

ان سب کو اچھی طرح مکس کر کے ہالوں میں لگائیں۔ ایک گھنٹے کے لیے چھوڑ دیں۔۔۔ پھر سر دھولیں۔۔۔۔ ہفتے میں دو بار یہ عمل دہرائیں۔ اس سے بال بہت سلکی ہوجائیں گے،، بالوں کی گروتھ میں اضافہ ہوگا اور بال گھنے ہوجائیں گے۔۔۔۔۔


5. بالوں کو دھونے کے بعد کچے ناریل کا پانی لگائیں


6

. روکھے بالوں میں رونک لانے کے لئے 4 کھانے کے چمچ دہی+ 2 کھانے کے چمچ مہندی+ 1 چمچ ناریل کا تیل ملا کر بالوں میں مساج کرتے ہوئے لگائیں 40 منٹ بعد دھو لیں۔ ہفتے میں دو سے تین بار یہ عمل کریں مطلوبہ نتائج تک کرتے رہیں۔


** اپنی خوراک میں زنک کی مقدار بڑھا دیں ، اس سے بالوں کا روکھا پن ختم ہوگا اور جلد بھی شفاف ہو گی۔ بادام میں، مچھلی، تل میں زنک کی بھاری مقدار ہوتی ہے ۔ ان کے متواتر استعمال سے بال صحت مند، گھنے اور لمبے ہوجاتے ہیں اور بالوں کا روکھا پن ختم ہو جاتا ہے۔۔   کھجور کا استعمال کریں کھجور میں آئرن فولاد ہوتا ہے۔ کھجور آئرن لیول کو بیلنس کرتا ہے روزانہ 5 سے 7 کھجوریں ضرور کھائیں**


** بالوں کو جتنا چاہیں اتنا بڑھائیں**


1. اگر آپ ایک ماہ پر مشتمل بالوں کا یہ کورس کرلیتے ہیں تو آپ کے بال کالی گھٹاؤں کی طرح ہوجائیں گے۔ بالوں سے متعلق تمام مسائل سے چھٹکارا مل جائے گا۔۔ 


پہلا ہفتہ۔۔۔۔۔  ایک عدد انڈہ پھینٹ کر اسمیں 3 چمچ شہد ملائیں۔ اچھی طرح مکس کریں کہ جھاگ بن جائے، اب اس آمیزے کو اپنے بالوں کی جڑوں میں لگائیں اور دو گھنٹے بعد سر کو دھولیں۔ رات کو سونے سے پہلے خالص ناریل یا زیتون کا تیل لگائیں۔ ان دونوں تیلوں میں وٹامن ای کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ پورا ہفتہ یہ عمل کریں۔ ایک بھی دن کا ناغہ نہ کریں۔


دوسرا ہفتہ۔۔۔۔۔  رات کو آملہ ، سیکاکائی ہم وزن لے کر بھگودیں صبح اس پانی سے بالوں میں اسپرے کریں اور کنگھی کریں۔ دو گھنٹے تک لگا رہنے دیں پھر سر دھولیں۔ رات کو تیل لگا کر سوئیں۔


تیسرا ہفتہ۔۔۔۔ رات میں ریٹھے کو بھگو دیں صبح اس کو پیس کر اس کا لیپ بالوں میں لگائیں، ایک گھنٹے بعد سر دھولیں۔ رات کو سوتے وقت تیل لگا کر سوئیں۔


چوتھا ہفتہ۔۔۔۔۔ ایک پیالی دہی میں + دوچمچ ایلو ویرا جیل + چند قطرے لیموں۔ پیسٹ بنالیں اور سر میں لگائیں۔ 2 گھنٹے تک لگا رہنے دیں پھر سر دھولیں۔ رات کو تیل لگا کر سوئیں اور صبح ان نسخوں پر عمل کریں۔

 تیل کوئی ایک استعمال کریں بار بار تیل نہ بدلیں۔ دن میں کم از کم سو مرتبہ بالوں میں کنگھی پھیریں اس سے خون کی گردش میں اضافہ ہوتا ہے جس سے بالوں کی صحت پر اچھا اثر پڑتا ہے۔


2. بالوں کی لمبائی بڑھانے میں پیاز کا رس بہت اہم ہے۔ پیاز کو کدو کش کر کے اس کا جوس نکال لیں اس جوس میں ایک چمچ ایلوویرا کا جوس، اور دو چمچ شہد ملا کر پیسٹ بنالیں بالوں کی جڑوں میں مساج کرتے ہوئے لگائیں۔ 30 منٹ بعد دھو لیں ہفتے میں تین بار اس عمل کو دہرائیں۔۔۔۔۔ ایلوویرا میں وٹامنز اور منرلز پائے جاتے ہیں جو بالوں کو ریپیئر کرتے ہیں اور ان کی گروتھ اور چمک میں اضافہ کرتے ہیں۔


** بالوں کی لمبائی تیزی سے بڑھانا چاہتے ہیں تو خوراک میں مچھلی، سلاد، انڈے اور دودھ کا استعمال بڑھا دیں۔ بال تیزی سے بڑھیں گے۔ ** 

** سرکولر موشن میں انگلیوں کے پوروں کی مدد سے مساج کریں اس عمل سے بھی بالوں کی لمبائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ دن میں کئی بار یہ عمل دہرائیں۔ جب بھی یاد آئے مساج کرنا شروع کردیں ۔ یہ عمل بہت کارگر ہے۔ **


3. آلو کو کدو کش کرکے اس کا رس نکالیں اور اسے بالوں میں لگائیں۔ اس میں وٹامن سی اور زنک ہوتا ہے جو بالوں کو تیزی سے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔ آگر روزانہ کریں گے تو ایک ہفتے میں ہی زبردست رزلٹ مل جائے گا۔



کامیابی آپ کی منتظر ہے

اگر تم کامیابی و کامرانی چاہتے ہو۔۔۔ زندگی میں خوشحالی چاہتے ہو۔۔۔ امن سکون چاہتے ہو۔۔۔ تو اپنے آپ کو۔۔۔ اپنے رب سے جوڑ لو۔۔۔ جو رب سے جڑ گی...